مخدوم پاک کا وصال

وصال
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت، انسانیت کی رہنمائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاری۔ وصال کے بعد آپ کا مزار مبارک کچھوچھہ شریف ضلع امبیڈکر نگر، اتر پردیش میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیںاور فیوض وبرکات حاصل کرتے ہیں ۔
رسالہ قبریہ ۔مخدوم صاحب کی طرف سے یہ بشارت نامہ بھی ہے جو مشرق ومغرب میں آفتاب کی طرح مستور ہے ۔
۲۰؍ محرم الحرام کے دن آپ کو دنیا سے رخصتی کا غیبی الہام ہوا اور آپ نے اپنے فرزند روحانی حاجی الحرمین فخرالسادات سید عبدالرزاق نورالعین جو آپ کی ہمشیرہ کے بیٹے اور اولاد غوث اعظم کی اولاد میں سے تھے ،ان کو ضمنا اشارہ فرمایا ۔۲۵؍محرم الحرام بروز منگل قبر انور شریف میں تشریف لے گئے۔ آپ نے یہ رسالہ ۲۶؍ محرم الحرام ۸۰۸؁ ھ بروز بدھ وبر شریف کے اندر تحریر فرمایا ، جہاں قدرتی طور پر قلم ،دوات اور کاغذ موجود تھے۔ اور ۲۸؍ محرم الحرام ۸۰۸؁ھ جمعہ مبارکہ کو اس دار فانی سے راہی ملک بقا ہوئے ۔
جنازہ ۔ مخدوم صاحب فرماتے ہیں ارباب علم دانش اور اصحاب طریقت وحقیقت کو معلام ہو کہ جب ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ ۔ (خوشی اور مسرت کے ساتھ اپنے رب کے پاس آجا )کا حکم آیا تو اس فقیر کو اسی ہزار مقرب فرشتوں کے ہمراہ بارگاہ صمدیت میں لایا گیا ۔ پھر صدرۃ المنتہیٰ کے نیچے پہنچا یا گیا اور ندا آئی تجھے دنیا میں چند دنوں کے لئے لوگوں کے عقائد اور اعمال کے اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا ۔اب اپنے اصلی وطن کی طرف لوٹ آؤفقیر نے اس نعمت پر باوجود اپنی کمزوری اور ضعف کے رب تعالیٰ کی یوں تعریف کی ۔ لا احصی ثنا ءعلیک کما اثنیت علی نفسک ۔ اے اللہ تیری تعریف میں پوری نہیں کر سکتا جیسی تونے خود اپنی کی ہے ۔ اس کے بعد حکم الہیٰ ہوا کہ تجھے اسی ہزار فرشتے نیز ہزار حرمین شریفین ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، اور بیت المقدس ، (کوہ لبنان) کے خاص بندے ، ایک ہزار ابدال مغرب ،ایک ہزار رجال الغیب ، سراندیپ سے اور ایک ہزار مردان غیب ،یمن کی جانب سے آکرتجھے غسل دیں گے ۔ پھر آسمان پر لے جائیں گے ۔ پھر بیت اللہ شریف کے سامنے نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور بندوں کے منافع کے لئے تجھے زمین میں دفن کیا جائے گا ۔ تاکہ جو تیری قبر پر آئے اس کی حاجات پوری ہوں اور اسے مغفرت و ۔بخشش کی نوید حاصل ہو