مخدوم سمناں کے حالات زندگی

حالات زندگی
تارک السلطنت غوث العالم محبوب یزدانی سلطان اوحدالدین قدوۃ الکبریٰ مخدوم سیداشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سلسلۂ اشرفیہ کے بانی وسرخیل حضرت قطب الاقطاب، غوث العالم، محبوب یزدانی ،مخدوم سیدمولانا اوحد الدین سلطان اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ کی ولادت ، ۷۱۲ھ مطابق ۱۳۱۳ء میں ہوئی ۔ آپ کی ولادت کی خوشخبری حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دی کہ تمہارے یہاں ایک فرزند ہوگا اس کا نام اشرف ہوگا جس سے تبلیغ واشاعت کا کام لیا جائے گا ۔ آپ نے ۱۲۰؍سال عمر پائی اور ۲۸؍محرم الحرام،۸۳۲؁ھ کو بمقام روح آباد،کچھوچھہ مقدسہ میں وصال فرمایا۔مزاراقدس اسی مقدس سرزمین پرعام وخاص کی زیارت گاہ اوربیماروں کے لیے شفاخانہ بنا ہواہے۔
حضرت محبوب یزدانی کے والدگرامی سیدمحمدابراہیم نوربخشی ابن سلطان سید عمادالدین شاہ نوربخشی سمنانی،سلطنت سمنانیہ نوربخشیہ ایران کے سلطان تھے۔ حضرت غوث العالم علیہ الرحمہ کاسلسلۂ نسب ۲۰؍ واسطوں سے امام جعفرصادق رحمۃ اللہ علیہ تک اور۲۳؍واسطوں سے امام حسین رضی اللہ عنہ تک اور۲۵؍ واسطوں سےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتاہے۔
مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ جب چارسال،چار ماہ اورچاردن کے ہوئے توخاندانی روایات کے مطابق آپ کی تعلیم کاآغاز کیاگیا۔اس روز دربارِشاہی میں جلسۂ شادمانی منعقد ہوا۔تمام شہر اورچارباغ سلطانی سجادیا گیا ۔ طرح طرح کے عمدہ فرش اور قالین بچھائے گئے اورمسندِ شاہانہ بچھائی گئی۔ حضرت مولانا عماد الدین تبریزی نے بسم اللہ کرائی اورحروف ابجد پڑھائی۔ سات سال کی نہایت کم عمری ، میں حفظ قرآن وقرات عشرہ کی تکمیل کی ۔
تختِ شاہی سے دستبرداری کے بعدآپ ہندوستان کی طرف چل پڑے۔گھڑسوار اورپیادہ فوج کچھ دورتک آپ کے ہمرکاب تھی ۔لیکن آپ نے انہیں بالآخرواپس لوٹادیا اورتنہاسفراختیارکیا، یہاں تک کہ ایک موقع پراپناگھوڑا بھی کسی ضرورت مند کودے دیااورپیدل سفر جاری رکھا۔
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت نے آپ کومقامات فقرسے بہت کچھ عطاکیا اورفرمایاکہ جلد پورب ملک ہند ،ریاست بنگال کی طرف جائیے کہ میرے بھائی علاؤ الحق والدین گنج نبات قدس سرہ آپ کے منتظر ہیں۔ خبردار ! خبردار ! کہیں راستہ میں زیادہ نہ ٹھہریئے۔ آپ وہاں سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے اورسفر کرتے ہوئے دہلی پہونچے۔
اور وہاں سے اپنے سفر پر نکل پڑے، چلتے چلتے بالآخرآپ اپنی منزل مقصود،مرشدِلاثانی کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔سرکار مخدوم العالم شیخ علاؤالحق والدین چشتی گنج نبات کے دست مقدس پربیعت کی اوراسی وقت پیرومرشدنے خلافت واجازت سے مشرف فرمایا۔ملک سمنان سے سرزمین پنڈوہ شریف مغربی بنگال کا یہ سفردوسال میں مکمل ہوا۔