مخدوم سمناں کے اقوال زریں

اقوال زریں
حضرت سلطان الاولیاء ، تاج الاصفیاء عمدۃ الکاملین، زبدۃ الواصلین، عین عیون محققین، وارث علوم انبیاء و مرسلین، تارک السلطنت غوث العالم محبوب یزدانی سلطان اوحدالدین قدوۃ الکبریٰ مخدوم سیداشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقوال زریں ملاحظہ فرمائیں۔
* جو چیز تمہیں حق تعالی کی یاد کی طرف مائل کرے ۔ اسے اپنے لئے لازم کرلو اور جو چیز حق تعالی کی یاد سے غافل کرے اسے دل سے جدا
کرنا واجب ہے ۔
* چشتی سلسلہ کا طریقہ مقصود سے بہت قریب ہے ۔ جس کو اہل چشت سے محبت دعویٰ ہو ، اس کے اندر دو صفت ہونا چاہئے ۔ ایک ترک وایثار ۔ دوسرے عشق وانکسار۔ جس کے اندر یہ دو صفتیں نہ ہوں وہ چشتی سلسلہ کے فیض سے پوری طرح بہرہ مند نہیں ہے۔
* ایمان و توحید کے بعد بندہ پر سب سے پہلے شریعت کے صحیح عقیدے کا جاننا فرض ہے۔
* علم حاصل کرو کہ جاہل زاہد ،شیطان کا تابعدار ہوتاہے
* خدا کا دوست جاہل نہیں ہوتا۔
*جاننا شریعت ہے ، جاننے کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور دونوں کے مقصد کو حاصل کرنا حقیقت ہے۔
*کسی کو حقارت سے نہ دیکھو اس لئے کہ بہت سے خداکے دوست اس میں چھپے ر
* جوکوئی لاالہ الا اللہ کو زندہ یا مردہ کی نجات و بخشش کے لئے پڑھے تو اس کو ضرور نجات حاصل ہوگی۔
* لباس کی زینت نماز کے لئے مخصوص ہونا چاہیئے لوگوں کے دکھاوے کے لئے نہیں ہونا چاہیے۔
* شریعت ان امور کی بجاآوری کانام ہے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان باتوں سے رکنا ہے جن سے منع کیا گیا ہے۔
* جو شخص طریقت میں شریعت کی پابندی نہیں کرتا وہ طریقت کی نعمت سے محروم رہتاہے۔
* توبہ اتنی پختہ کریں کہ پھر برے افعال میں مبتلانہ ہوں بلکہ دل میں برے افعال کا خیال بھی نہ ہو۔
* اعلیٰ ترین دولت ونعمت جس سے انسان سرفراز فرمایا گیا ہے وہ اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے۔
* سفر میں اگرچہ بہت سی تکالیف اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور لوگ اپنی اصلی وطن سے دور ہوجاتے ہیں
لیکن بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
* کھانا عورت ہے اسے چھپاؤ یعنی اس کے عیب ظاہر نہ کرو۔
* اگر کھانے کے دوران مشائخ کے اقوال اور ان کے حالات جو مجلس کی کیفیت کے مطابق ہو بیان کئے جائیں تو بہترہے۔
* روٹی کی عزت کرنی چاہیئے۔ روٹی کی عزت یہ ہے کہ اس پر رکابی اور نمک دان نہ رکھا جائے۔
* کھانا بے پرواہی اور بے دلی سے نہ کھائے بلکہ دل کے اطمینان ساتھ کھانا کھا نا چاہیئے۔
* کھانا تین طرح کا ہوتا ہے : فرض، سنت، مباح کھانے کی وہ مقدار جو انسان کو ہلاکت سے بچائے فرض ہےاور جتنی غذا
عبادت یا پیشہ کے لئے ضروری ہو سنت ہے اور پیٹ بھر کھانا مباح ہے ۔
* رات کا کھانا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اس لئے کہ اس سے کمزوری اور بڑھاپا پیدا ہوتا ہے۔
* مہمان کے قدموں کی تشریف کے سبب میزبان کے گھر میں بے حد برکت ہوتی ہے۔ امید ہے کہ میزبان جس شئے سے
مہمان کی ضیافت کرتاہے اللہ تعالیٰ اسی روز اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔
* مجھے جو دینی سعادت اور یقینی افادات حاصل ہوئی ہے۔تمام کی تمام پچھلے پہر جاگنے کی برکت سے عطاہوئی ہے۔
* مخلوق میں انسانوں کے تعلق سے پسندیدہ اور بہترین صفت ،شفقت کرنا ہے۔