علمی خدمات
سیداشرف جہانگیرسمنانی اپنے زمانہ کے جیداورمقتدرعالم ،عظیم المرتبت ولی کامل ،صوفی باصفا تھے، ساتھ ہی بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔آپ کے تبحرعلمی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ دس سال تک تخت ِ شاہی پرمتمکن رہے اس دوران کثیر تعداد میں علماء و فضلاء آپ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ تہہ کرتے اوراپنی علمی تشنگی بجھاتے رہے۔
حکومت کے امورانجام دینے کے علاوہ علمی مسائل کی پیچیدہ گتھیاں بھی سلجھاتے رہے۔بادشاہِ وقت ہونے کے ساتھ آپ محقق ،مفکر،مصنف،مؤلف، مترجم،مفسر،مصلح،محدث،فقیہ عصر،محشی،مؤرخ، نعت گو شاعر،اردوزبان کے اولین ادیب اورایک عظیم شارح بھی تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کوایساعجیب علم عطافرمایا تھا کہ جس ملک و علاقہ میں تشریف لے جاتے وہاں کی زبان بولتے اوراسی زبان میں وعظ ونصیحت کرتے اورکتاب تصنیف کرکے وہاں کے لوگوں کے لئے چھوڑ آتے۔ بہت سی کتابیں آپ نے عربی ،فارسی،ترکی، اورسوری وغیرہ مختلف ممالک کی زبانوں میں تصنیف فرمائی ہیں ۔ جلیل القدرعلماء کایہ قول تھاکہ جس قدرتصانیف حضرت محبوب یزدانی کی ہیں بہت کم علماء اس قدر صاحب تصانیف کثیرہ کے مصنف ہوئے ہوں گے۔