مجلس مشاورت اور جواب کی تیاری

مجلس مشاورت اور جواب کی تیاری
بدنام زمانہ ملعون وسیم رضوی نے ایک کتاب بنام ’’محمد‘‘ لکھی جس میں ناموس رسالت، عظمت قرآن، عظمت اسلام اور امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھن کی ذوات بابرکات کی شان میں نازیبا کلمات اور جملے لکھے۔ کتاب جب رضا اکیڈمی کے دفتر پہنچی اور بانی رضا اکیڈمی الحاج محمد سعید نوری صاحب نے دیکھا تو خون کے آنسو روتے ہوئے پیر طریقت، رہبر شریعت، قائد اہل سنت، حضرت علامہ مولانا الحاج سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی ، صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کو اطلاع دیتے ہوئے اس جانب مستحکم قدم اُٹھانے کا مشورہ دیا۔ کتاب کے جواب کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے تحفظ ناموس رسالت بورڈ کے زیر اہتمام جامعہ قادریہ اشرفیہ سنی مسجد بلال ممبئی میں ایک مجلس مشاورت معین المشائخ کی سرپرستی اور الحاج سعید نوری صاحب کی صدارت میں رکھی گئی جس میں اہل علم اور دانشوروں نے شرکت کی، بالخصوص جناب ریحان دھوراجی والا صاحب، جناب اسلم لاکھا صاحب، ایڈوکیٹ سلطان صاحب، جناب عارف رضوی صاحب (کیلکو) جناب عرفان شیخ صاحب، مولانا انوار بغدادی صاحب، مولانا عباس رضوی صاحب (ترجمان رضا اکیڈمی)، مولانا خلیل الرحمن نوری صاحب، مولانا ظفرالدین رضوی صاحب، مولانا محمد عمر صاحب (ناظم اعلیٰ جامعہ قادریہ اشرفیہ)، مفتی شاہ نواز صاحب، مولانا حافظ و قاری مشتاق احمد تیغی صاحب، مولانا عبدالرحیم اشرفی صاحب اور دیگر علما شامل ہوئے اور یہ طے پایا کہ تحفظ ناموس رسالت بورڈ کے زیر اہتمام اس کام کو بہت جلد پا یۂ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ علما اور دانشوروں کی نگرانی میں یہ ذمہ داری مجھے سونپی گئی، کتاب ہندی میں تھی بہت مختصر وقت میں کتاب کا اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ علماء اور اہل فکر کی ٹیم جواب دینے کے لیے کمربستہ ہوگئی سب سے پہلی توجہ کتاب ’’محمد‘‘ میں دیے گئے حوالوں کی طرف کی گئی۔ حوالوں کے لئے کتابوں کی فہرست تیار کی گئی اور کتاب کی فراہمی کے لیے جناب عرفان شیخ صاحب نے کافی تگ و دو کی، ہند اور بیرون ہند سے تمام کتابیں اکٹھا کی گئیں اس کے بعد اس میں دیے گئے حوالوں کو تلاش کرکے اکٹھا کیا گیا، پھر اس کے حوالوں کے ذریعے ہی گھیر کر اس کا محاسبہ کیا گیا۔
حوالہ جات میں جو خیانت کی گئی ہے اس کوبیان کرنا مشکل ہے۔ اتنی زیادہ خیانت کی گئی ہے کہ اس کو تحریف و ترمیم کہنا بھی درست نہ ہوگا۔ یوں کہیے کہ حوالہ دیا گیا ہے اور مفہوم غائب! حوالے کی عبارتیں ایسی ہیں جیسے آٹے میں نمک ۔
میں نے ۱۸؍دسمبر ۲۰۲۱ ؁کو اس کام کا آغاز کیا سب سے پہلے ملعون وسیم رضوی کی کتاب ’’محمد‘‘ کا بغور مطالعہ کیا۔ ایک ایک سطر کو انہماک کے ساتھ پڑھ کر اعتراضات و الزامات کا جائزہ لیا کتاب میں دیے گئے تمام حوالوں کو الگ کر کے ایک فہرست بنائی۔ جن کتابوں کا حوالہ دیا گیا تھا ان میں سے حوالوں کو الگ کرکے دونوں حوالوں کا تقابلی مطالعہ کرکے اس کا تجزیہ کیا گیا۔ حوالوں میں جو خیانت کی گئی تھی اس کی نشان دہی کی گئی۔ اس میں ۱۵؍ دن لگ گئے اس کے بعد تصنیفی کام شروع ہوا۔ الحمدللہ ۲۸؍جنوری ۲۰۲۲ ؁ء ۲۴؍جمادی الآخرہ ۱۴۴۳؁ھ کو ۳۶؍ کتابوں سے ماخوذ ۲۳۰؍ حوالوں سے یہ کتاب ’’عظیم محمد‘‘ مکمل ہو گئی۔
احقاق حق اور ابطال باطل نمایاں ہوگیا ملعون وسیم رضوی کی من گھڑت اور جھوٹی دیوار جو اس نے حق کے سامنے کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی زمین بوس ہو گئی۔ اس کے چہرے سے مکھوٹا اتر گیا۔ کتاب ’’عظیم محمد‘‘ ﷺ کے مطالعہ کے بعد کوئی بھی انصاف پسند انسان اسے ننگا کر سکتا ہے۔ اور کوئی بھی اس کے اعتراضات اور الزامات کا آسانی سے جواب دے سکتا ہے۔ اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ وہ کتنا بڑا خائن، مکار، جھوٹا اور جاہل ہے۔
بالخصوص میں شکر گزار ہوں پیکر علم و فن استاذ الاساتذہ والعلماء خیرالازکیا حضرت علامہ مولانا محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ (الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور) کا جنہوں نے کتاب ’’عظیم محمد‘‘ کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اور تصحیح فرمائی۔ اللہ عزوجل ان کا سایہ علماء کرام پر تادیر قائم رکھے۔
اور دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے جنہوں نے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوششیں کیں، رب قدیر ہم سب کو ناموس رسالت اور عظمت اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلوات اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین
طالب دعا
محمد ابراہیم آسیؔ
جامعہ قادریہ اشرفیہ، ممبئی
Email:mdibrahimaasi@gmail.com