لواطت حرام ہے
اَتَاتُوْنَ الْفَاْحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِینَ اِنَّکُمْ لَتَاتُوْن الرِّجَالَ شہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَائِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُوْنَ (پارہ۸، رکوع۱۷)
ترجمہ: کیا وہ بے حیائی کرتے ہیں جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔
برادران اسلام لواطت حرام ہے بہت ہی بری اور قبیح چیز ہے ایسے لوگوں پر لعنت ہوتی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے واضح لفظوں میں فرما دیا کہ ایسے لوگ جو مردوں کے ساتھ شہوت پرستی کرتے ہیں حد سے گزرنے والوں میں سے ہوتے ہیں ایسے فعل کا ارتکاب بقائے نسل انسانی کے منافی ہے عورتیں محل شہوت اور محل نسل انسانی کے لیے بنائی گئی ہے جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر وہ کام مردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے مقصد اصلیہ کو فوت کر دیا کیونکہ مرد کو نہ حمل رہتا ہے نہ بچہ جن سکتا ہے اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے علماء فرماتے ہیں کہ قوم لوط کی بستیاں سرسبز و شاداب تھیں اور پھل کثرت سے پیدا ہوتے تھے دوسرے علاقوں کے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے ایسے وقت میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی کثرت سے نجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بدفعلی کرو اس طرح یہ فعل بد انہوں نے شیطان سے سیکھا۔
سماج اور معاشرہ میں یہ فعل انتہائی گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور اس فعل کے مرتکب پر سبھی لعنت و ملامت کرتے ہیں اور سبھی ایسے اشخاص سے گھن کرتے ہیں سماج میں ان کی کوئی عزت و وقار باقی نہیں رہتا ہے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جب اس فعل میں مبتلا ہو گئی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش کی صورت میں عذاب نازل کیا اور وہ لوگ ہلاک ہو گئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے شیطان کے بہکاوے میں ہرگز ہرگز نہ آئیں اپنے دامن کو ایسے برے فعل سے دور رکھیں اسی میں دارین کی بھلائی ہے۔