قــرآن
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَ سَیّدِنَا وَ مَولٰنامُحَمَّداً
صلیَّ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَسَلّم عَلَی الْعٰلمِینَ
جَمِیْعاً اَقَامَہ یَوم القَیَامَۃِ لِلمُذْنَبِیْنَ المتلوثین
الخطاِّئینَ الْھَالِکِیْنَ شَفِیْعاً امَّابَعَدُ فَقَدْ قَالَ
اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید اعوذ باللّٰہ من
الشیطان الرجیم الٓمٓ ذٰلک الکِتابَ لارَیب فِیْہٖ
صدق اللہ العظیم و بلغنا رسولہ الکریم
معزز سامعین کرام !ابھی ابھی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اور ہم مل کر سید الثقلین،نبی الحرمین ، امام القبلتین ، سید ابرار و اخیار شہنشاہ ذی وقار کائنات کے اولیں فصل ، رہبر اعظم ، قائد اعظم ،نیر اعظم ، سیاح لامکاں مالک انس وجاں، حبیب پروردگار ، جناب احمد مجتبی محمد مصطفی کے دربار عالی شان میں نہایت ہی عقیدت و محبت کے ساتھ اپنی غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے درود شریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں ۔ {اللھم صلی علیٰ سیدنا و مولٰنا محمدٍبارک وسلم صلاۃً وسلاماً علیک یا سیدی یارسول اللہ }
ہے قولِ محمد قولِ خدا فرمان نہ بدلا جائے گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلا جائے گا
معزز سامعین ! ابھی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے ۔ یہ بہت ہی مشہور و معروف آیتِ کریمہ ہے ۔ آپ جب قرآن کی تلاوت شروع کریں گے تو سورہ فاتحہ کے بعد سب سے پہلے یہی آیت کریمہ نظر آئے گی ۔{الم ذلک الکتاب لاریب فیہ} ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کلام مقدس کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہ قرآن وہ مقدس کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ کس کا قول ہے کسی مدبر کا قول نہیں ، کسی مخلوق کا قول نہیں ، کسی مفکر کا قول نہیں ، کسی محدث کا قول نہیں ، کسی مصنف کا قول نہیں بلکہ خالق ِ مخلوق کا قول ہے ، خالق مدبر کا قول ہے ، خالق مفکر کا قول ہے ، خالقِ محدث کا قول ہے ، خالقِ کائنات کا قول ہے ۔
Post Views: 48