قربانی پر ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض لوگ کہتے ہیں:قربانی سے جانور ہلاک اور رقم ضائع ہوتی ہے۔ یہ رقم کسی قومی مقصد میں خرچ کی جائے یا ویسے ہی غریبوں کو دے دیں تو جواب یہ ہے کہ پہلی بات: یہ فائدہ و نقصان اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ جانتا ہے لیکن اس نے قربانی کا حکم ہی دیا ہے، لہٰذا اس عالم الغیب والشھادۃ نے جو حکم دیا وہ سر آنکھوں پر ہے۔ دوسری بات: قربانی کرکے گوشت غریبوں کو دینا شریعت نے مستحب قرار دیا ہے۔ اس طریقے میں ان کی خوراک کی بہت بنیادی حاجت بھی پوری ہوتی ہے اور حکمِ خداوندی پر عمل بھی ہوجائے گا۔ تیسری بات یہ ہے واجب قربانی تو حکمِ شریعت کے مطابق ہی کی جائے جبکہ نفلی قربانی کی جگہ چاہیں تو غریبوں کو رقم دے دیں۔ آخر یہ کس نے کہا ہے کہ واجب قربانی کے علاوہ ایک روپیہ بھی کسی غریب کو نہ دیں۔ چوتھی بات یہ ہےکہ واجب قربانی پر دانت تیز کرنے اور نظریں گاڑنے کی بجائے فلمیں، ڈرامے بنانے اور دیکھنے کی رقمیں، یونہی فضولیات و تعیشات پر خرچ ہونے والی کھربوں روپے کی رقم غریبوں پر خرچ کریں۔