قرآن کے کسی حکم کا انکار کفر ہے
اَفَتُوئْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (پارہ ۱، رکوع ۱۰)
ترجمہ: تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔
برادران اسلام قرآن مقدس کے ہر حکم پر ایمان لانا ضروری ہے اگر کوئی کسی حکم سے انکار کرے تو وہ کافر ہوجائے گا قرآن کریم کے کسی حکم کو مانتے ہوئے بجا آوری نہ کرے ادا نہ کرے تو یقینا گناہ گار ہوگا لیکن اسلام سے خارج نہ ہوگا۔
اسی طرح اگر کوئی مسلمان نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کرتا ہے تو بلا شبہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے لیکن اسلام سے خارج نہیں ہوتا مگر ان میں سے کسی کا انکار کرنا اور اسے نہ ماننے پر بلا شبہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ جس طرح سے قرآن کے احکام پر ایمان ویقین ضروری ہے اسی طرح قرآنی آیات پر بھی ایمان لا نا ضروری ہے اگر کوئی شخص کسی آیت یا کسی سورۃ کا انکار کرتا ہے یا کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم حضور اقدس ﷺ پر نازل ہوا تھا اس میں کمی بیشی ہو گئی ہے بلا شبہ وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ قرآن کی ہر آیت پر ایمان رکھے اس کے ہر احکام کو تسلیم کرے اس کی حرکات و سکنات درست مانے اگر کوئی ایسا عقیدہ نہیں رکھتا تو بلا شبہ وہ کافر ہوجائے گا۔
اسی طرح اگر کوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی مانے اور حضور سید عالم ﷺکی نبوت سے انکار کرے تو بلا شبہ وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔
اگر کوئی وحدانیت کا اقرار کرے اور حضور مصطفی جانِ رحمت ﷺ پر ایمان نہ لائے تو وہ بھی مسلمان نہیں۔ ہمیں قرآن مقدس کے ساتھ ساتھ تمام آسمانی کتابوں مثلاً زبور، توریت، انجیل اور دیگر صحیفوں پر بھی ایمان لانا اور کلام الٰہی تسلیم کرنا چاہیے ورنہ ہم مسلمان نہیں ہو سکتے۔