قرآن کا فرمان

قرآن کا فرمان
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن میں ایک جگہ ارشاد فرماتا ہے ۔{اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوا وَ بَیَّنُوا فَاؤلٰئکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَ اَنَا التَّوابُ الرَّحِیمْ}مگر وہ لوگ جو توبہ کریں اور غلطی کو درست کریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ‘‘
برادران اسلام  ! قرآن تمہیں پکار رہا ہے ، درد بھرے انداز میں تمھیں پیغام دے رہا ہے ۔ جلدی سنبھل جاؤ بدی کا راستہ چھوڑ کر نیکی کی طرف نکل پڑو ، اپنے گناہوںسے توبہ کرو ورنہ جب موت آئے گی تو سوائے افسوس اور کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ یہی ارشاد فرماتا ہے کہ جلد اپنے گناہوں کو چھوڑ کر سچے دل سے توبہ کرلو تو تمہاری توبہ قبول ہو جائے گی اور تمہارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
برادران اسلام ! توبہ مسلمانوں کی قبول ہوتی ہے کافروں کی نہیں اس لئے انسان کو بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔ جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اس کی نیکی لکھی نہیں جاتی ،  جب تک وہ کلمہ پڑھ کر اسلام نہ لائے اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی ۔ جب انسان قرآن کی تو ہین کرکے یا حدیث کی توہین کرکے یا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی تو ہین کرکے کافر ہو جاتا ہے تو نیکی لکھنے والا فرشتہ اپنا دفتر لیکر اللہ تعالی سے عرض کرتا ہے ۔ الہٰ العالمین تیرا فلاں بندہ کافر ہوگیا اور تیرا حکم ہے کہ کسی کافر کی نیکی نہ لکھوں اب مجھے اجازت دے کہ میں آسمان میں رہ کر تیری عبادت کروں جب تک کہ وہ توبہ کرکے اسلام میں داخل نہ ہو جا ئے ۔اس لئے سرکار کی توہین کرنے والے پر فرض ہے کہ کلمہ پڑھ کر اسلام لائے اور توبہ کرے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کو وسیلہ بنائے تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن میں درس دیتا ہے کہ اے مو منو جب تم اپنی جانوں پر ظلم کر چکے ہو یعنی گناہ کر چکے ہوتو میرے محبوب کے دربار میں حاضر ہو اور اس سے معافی مانگو اگر وہ معاف کردیں تو تمہارے لئے نجات ہے ۔
ایک اعرابی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کے روضئہ اقدس پر حاضر ہو کر عرض کرنے لگا ، روتے ہوئے بڑے درد مند انہ نداز میں کہا یا رسول اللہ آپ نے جو کہا ہم نے سنا جو آپ پر نازل ہوا اس کو ہم نے پڑھا میں نے گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے لئے آپ کی قبر انور پر حاضر ہواہوں آپ میری سفارش کرکے میرے گناہوں کو معاف کرائیے اتنا کہنا تھا کہ قبر انور سے آواز آئی اے اعرابی اللہ تبارک تعالیٰ نے تمہارے گناہ کو بخش دیا۔
آپ غور کیجئے اس اعرابی کو قرآن پر کتنا بھروسہ تھا ، کتنا یقین تھا۔ قرآن پر عمل کرکے اعرابی نے کامیابی حاصل کرلی ۔ آج بھی اگر ہم قرآن پر عمل کریں قرآن کی کہی ہوئی باتوں پر عمل کریں تو ہمارے سارے گناہ مٹ سکتے ہیں کامیابی ہمارے قدموں میں ہوگی ۔ اگر گناہوں کے دلدل میں پھنس گئے ہیں تو ہمارے لئے ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو وسیلہ بنا کر توبہ استغفار کریں اور اس پر قائم رہیں تو ہم گناہوں کے دلدل سے نکل کر نیکیوں کی پر بہاروادیوں میں پہونچ سکتے ہیں۔
مسلمانوا! آج ہی توبہ کیجئے اور گناہ نہ کرنے کا عہد اپنے دل میں مستحکم کر لیجئے ۔ دعا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اور آپ کو توبہ کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے ۔ آمین
وَ مَاعَلَیْنَا اِلَّا البَلٰغ