قبر کا عذاب حق ہے

قبر کا عذاب حق ہے

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوَّا وَّ عَشّیًّا (پارہ۲۴، رکوع۱۰)
ترجمہ: آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔
آیت مذکورہ میں آگ پیش کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جلائے جاتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دو مرتبہ صبح و شام آگ میں پیش کی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا اس آیت سے عذاب قبر کے ثبوت پر استدلال بھی دیا جاتا ہے بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہر مرنے والے پر اس کا مقام صبح و شام پیش کیا جاتا ہے جنتی پر جنت کا اور دوزخی پر دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تاآنکہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تجھ کو اس کی طرف اٹھائے۔
برادران اسلام ہمیں عذاب قبر پر ایمان رکھنا ضروری ہے اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ صبح و شام آگ میں جلائے جاتے ہیں یہ عذاب قبر ہی ہے اس کے بارے میں بہت سی حدیثیں بھی ملتی ہیں ایک مرتبہ حضور ﷺ اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ تشریف لے جا رہے تھے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام ٹھہر گئے اور آپ نے ایک ٹہنی توڑی اس کے دو حصے کیے ہر ایک کو ایک ایک قبر پر نصب کیا اور فرمایا یہ دونوں عذاب قبر میں مبتلا ہیں اور حضور سیدِ عالم ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ ان کو عذاب اس لیے ہو رہا ہے کہ دنیا میں یہ پیشاب کی نجاست سے نہیں بچتے تھے صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ مرنے کے بعد انسان سے تین سوال کیے جاتے ہیں اگر انسان صحیح جواب دے دیتا ہے تو اسے عذاب سے بری کر دیا جاتا ہے اور اگر صحیح جواب نہیں دیتا ہے تو اس پر عذاب مسلط کر دیا جاتا ہے اس سے بھی عذاب قبر کا پتہ چلتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ گنہگاروں کے لیے قبر میں اژدہا مقرر کیے جائیں گے وہ ایسے خطرناک اور زہریلے ہوںگے کہ اگر وہ زہریلا ازدہا دنیا میں زمیں کے کسی حصے پر ڈنک مارے تو اس زہر کی وجہ سے پوری زمین پر سبزہ نہ اُگے مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر حق ہے۔