الجواب :
مسلمانوں کے قبرستان میں اگر چہ قبروں کے نشانات مٹ چکے ہوں اس میں پارک وغیرہ بنانا اور نماز پڑھنا ہرگز جائز نہیں ۔ حدیث شریف میں ہے : ” لا تـصـلـوا على قبر . ” اور بہار شریعت حصہ دہم صفحہ ۸۳ پر ہے ” مسلمانوں کا قبرستان ہے جس میں قبر کے نشان بھی مٹ چکے ہیں ہڈیوں کا بھی پتہ نہیں جب بھی اس کو کھیت بنانا یا اس میں مکان بنانا جائز نہیں اب بھی وہ قبرستان ہی ہے قبرستان کے تمام آداب بجالائیں ۔ انتھی بالفاظہ ” اور فتاوی عالمگیری جلد دوم صفحہ ۳۶۲ میں ہے : ” سـئـل هو ( اي القاضي الامام شمس الائمة محمود الاوزجندي ) عن المقبرة في القرى اذا اندرست و لم يبق فيهـا اثـر الـمـوتـى لا الـعـظـم و لا غيـره هل يجوز زرعها و استغلالها قال لا و لها حكم المقبرة كذا في المحيط . ” و الله تعالى اعلم .
حوالہ :
فتاوی فقیہ ملت جلد دوم
Post Views: 2