قبرستان میں تبدیل
ملعون وسیم رضوی کتاب صفحہ ۱۳۳ پر صحیح بخاری کا حوالہ دے کر لکھتا ہے،
’’ابن عباس نے کہا جس دن رسول کی وفات ہوئی وہ مجھ سے کہہ رہے تھے سارے عرب کے کافروں، یہودیوں اور عیسائیوں کو نکال دو، ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کردو، اس کو قبرستان میں تبدیل کردو۔‘‘
قارئین! یہ تمام باتیں جھوٹ اور بکواس ہیں۔ صحیح بخاری کا اصل متن آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے۔
صحیح بخاری، جلد دوم، صفحہ ۶۹۷، حدیث نمبر ۱۵۶۷
’’ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ كَذَلِكَ يَقُولُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارىٰ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا‘‘
ترجمہ: ’’حضرت عائشہ صدیقہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ بیماری کے دنوں میں رسول اللہ ﷺ چادر کے اندر مبارک چہرہ چھپانے لگے تھے۔ جب دل گھبراتا تو چہرئہ انور کو کھول دیتے اور یہی فرماتے: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت، جنہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا، ان کی اس حرکت سے آپ بچنے کے لئے فرماتے۔‘‘
اصل حدیث کے متن کو بار بار پڑھئے اور اس کے جھوٹ کو دیکھئے
اب میں ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر ۱:
ابن عباس نے کہا جس دن آپ کی وفات ہوئی وہ مجھ سے کہہ رہے تھے۔
جھوٹ نمبر ۲:
سارے عرب سے کافروں، یہودیوں اور عیسائیوں کو نکال دو۔
جھوٹ نمبر ۳:
ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کردو۔
جھوٹ نمبر ۴:
ان کو قبرستان میں تبدیل کردو۔
یہ ہے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کا انبار۔
اس حدیث میں کہیں بھی یہود و نصاری کو نکالنے کی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ انبیا کی قبروں کو مسجد بنانے والوں پر اللہ کی لعنت بھیجی گئی ہے۔ الفاظ دیکھیں ’’لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارىٰ‘‘ ملعون وسیم رضوی کہتا ہے کہ ان کی عبادت گاہوں کو قبرستان میں تبدیل کردو۔ حضور اقدس ﷺ کے الفاظ یہ ہیں۔ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ جنہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔
ذرا غور کریں۔ نہ ہی اس حدیث میں عرب کے لئے الفاظ ہیں اور نہ ہی اس میں نکالنے کی بات ہے، نہ ہی عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کا کوئی ذکر ہے۔
یہ ہے ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ۔ کہاں تک اس کا جھوٹ شمار کرایا جائے۔
اب میں اس حدیث کو پیش کرتا ہوں جس میں جزیرئہ عرب سے نکالنے کی بات کی گئی ہے، کس سے کہی گئی ہےاور کس طرح کہی گئی ہے، حدیث کا عربی متن ملاحظہ فرمائیں،
صحیح بخاری، جلد دوم، صفحہ ۶۹۳، کتاب المغازی، حدیث نمبر ۱۵۵۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ فَقَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَسَکَتَ عَنْ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا۔‘‘
ترجمہ: ’’سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ہائے جمعرات! اور جمعرات کا دن کیا ہے؟ اس روز حضور اقدس ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی۔ آپ نے فرمایا مجھے لکھنے کی چیزیں لا کر دو تاکہ میں تمہیں ایسی چیز تحریر کردوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو سکو، کچھ لوگ جھگڑنے لگے حالانکہ نبی کی بارگاہ میں جھگڑنا مناسب نہ تھا، بعض حضرات کہنے لگے کہ شاید آپ بیماری کے باعث ایسا فرما رہے ہیں تو انہوں نے دوبارہ جاکر دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس بات کو جانے دو میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی جانب تم بلا رہے ہو آپ نے انہیں تین باتوں کی وصیت فرمائی۔‘‘
(۱) مشرکین کو جزیرئہ عرب سے نکال دینا۔
(۲) سفیروں کے ساتھ اس طرح حسن سلوک کرنا جیسے میں کرتا تھا۔
(۳) تیسری وصیت سے وہ خاموش ہوگئے یا راوی نے کہا کہ میں بھول گیا۔
قارئین! دھیان سے اس حدیث کا مطالعہ کریں اس میں بھی کہیں نہیں ہے کہ کافروں، یہودیوں اور عیسائیوں کو نکال دو، اس میں بھی کہیں نہیں ہے کہ ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کردو اس حدیث میں بھی کہیں نہیں ہے کہ ان کو قبرستان میں تبدیل کردو، اس میں صرف یہ ہے کہ
أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
قارئین! اب خود اندازہ لگائیں کہ ملعون وسیم رضوی جھوٹ بولنے میں کتنا ماہر ہے۔
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۲پر لکھتا ہے:
’’صفیہ نے محمد کو زہر دیا۔‘‘
معاذ اللہ! وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور ﷺ کو زہر دیا تھا۔ اس کا گندہ نظریہ یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ کی بیوی نے ہی زہر دے کر آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی، اپنے ثبوت کے لئے صحیح بخاری کی دو من گھڑت حدیث حوالہ کے طور پر لکھتا ہے۔
’’عبدالرحمن بن ابوبکر نے کہا: رسول نے ایک بھیڑ کا بچہ ذبح کیا اور اسے پکانے کے لئے ’’صفیہ‘‘ کے پاس بھیجا تو صفیہ نے اسے پکایا۔‘‘
دوسرا حوالہ یہ دیتا ہے،
’’انس بن مالک نے کہا: رسول کی ایک یہودی بیوی نے بھیڑ کا بچہ پکایا تھا جس میں زہر تھا رسول پلیٹ سے لے کر وہ گوشت کھا گئے۔‘‘
قارئین! ان دونوں حوالے میں اس کے جھوٹ کو دیکھئے:
جھوٹ نمبر ۱:
بھیڑ کا بچہ۔
جھوٹ نمبر ۲:
رسول نے ذبح کیا۔
جھوٹ نمبر ۳:
یہودی بیوی۔
جھوٹ نمبر ۴:
رسول نے صفیہ کے پاس بھیجا۔
یہ ساری باتیں جھوٹ پر منحصر ہیں۔ بھیڑ کا بچہ نہیں بلکہ بکری تھی۔
الفاظ یہ ہیں ’’شاۃ فیھاسم‘‘ یعنی بکری کے گوشت میں زہر تھا۔
رسول خدا ﷺ نے ذبح نہیں کیا تھا بلکہ آپ کو تحفہ بھیجا گیا تھا۔
الفاظ یہ ہیں۔ ’’اھدیت لرسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم۔‘‘
جھوٹ سے پردہ اُٹھ جائے اس لئے زہر خورانی کے اصل واقعہ کو حدیث کے عربی متن کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔
صحیح بخاری، جلد دوم، صفحہ ۶۱۷، کتاب المغازی، حدیث نمبر ۱۳۹۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ۔
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بکری کا گوشت پیش کیا گیا جس میں زہر تھا۔‘‘
اسی زہر خورانی کے تعلق سے ایک تفصیلی حدیث عربی متن کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں:
صحیح بخاری، جلد سوم، صفحہ ۲۸۲، باب المغازی، حدیث نمبر ۷۲۴
’’حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لِي مَنْ کَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُکُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوکُمْ قَالُوا أَبُونَا فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَذَبْتُمْ بَلْ أَبُوکُمْ فُلَانٌ فَقَالُوا صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُکُمْ عَنْهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ کَذَبْنَاکَ عَرَفْتَ کَذِبَنَا کَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ فَقَالُوا نَکُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُکُمْ فِيهَا أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُکُمْ عَنْهُ قَالُوا نَعَمْ فَقَالَ هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلَی ذَلِکَ فَقَالُوا أَرَدْنَا إِنْ کُنْتَ کَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْکَ وَإِنْ کُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّکَ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوگیا، محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بکری کا گوشت پیش کیا گیا جس میں زہر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: جتنے یہاں یہودی ہیں انہیں میرے پاس بلائو۔ چنانچہ انہیں آپ کے سامنے حاضر کیا گیا، حضور اقدس ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں تم لوگوں سے ایک بات پوچھنے والا ہوں، کیا تم مجھے سچ سچ بتا دو گے؟ جواب دیا، اے ابوالقاسم! ہاں۔ آپ نے اس سے فرمایا، تمہارا جد اعلی کون ہے؟ انہوں نے کہا، ہمارا باپ فلاں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے جھوٹ سے کام لیا بلکہ تمہارا جد اعلیٰ فلاں ہے۔ وہ کہنے لگے آپ نے سچ فرمایا اور راست گوئی سے کام لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو کیا مجھے سچ سچ بتادوگے؟ انہوں نے جواب دیا اے ابوالقاسم! ہاں۔ اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ کو اسی طرح پتہ لگ جائے گا جیسے ہمارے جد اعلیٰ کے بارے میں آپ جان گئے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ بتائو دوزخی کون ہے؟ انہوں نے کہا تھوڑے دن ہم رہیں گے پھر ہماری جگہ آپ لوگ ہوں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس میں ذلیل ہونے والو! خدا کی قسم تمہاری جگہ ہم کبھی نہیں جائیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو کیا سچ سچ بتا دو گے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا: تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو آپ کو نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘
ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
سیرت ابن ہشام، جلد دوم، صفحہ ۴۰۴
’’جب رسول اللہ ﷺ کو اطمینان ہوگیا تو زینب بنت حارث نے جو سلام بن مشکم کی بیوی تھی آپ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری ہدیۃً پیش کی۔ زینب پہلے دریافت کرچکی تھی کہ حضور ﷺ کو بکری کا کون سا عضو زیادہ پسند ہے اور اسے بتایا جا چکا تھا کہ آپ کو دست زیادہ پسند ہے۔ زینب نے یوں تو ساری بکری میں زہر ملایا تھا مگر دست میں زیادہ ملا دیا۔ اب اسے لے کر آئی، بکری کا گوشت آپ کے سامنے رکھا گیا اور آپ نے دست اُٹھا کر تناول فرمایا۔ پہلا ہی لقمہ چباکر نگلنا چاہا مگر نگل نہ سکے۔ آپ کے ساتھ بشر بن براء بن معرور بھی شریک تھے۔ انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی طرح ایک لقمہ اُٹھا کر کھایا اور نگل گئے۔ مگر رسول خدا ﷺ نے اگل دیا اور فرمایا ہڈی بتاتی ہے کہ گوشت زہر آلود ہے۔ پھر زینب کو بلا کر پوچھا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ رسول اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا ما حملک علی ھذا اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے جواب دیا آپ میری قوم کے سلسلے میں جس حد تک پہنچ گئے ہیں وہ آپ پر مخفی نہیں ہے۔ میں نے سوچا اگر آپ بادشاہ ہیں تو آپ کو زہر سے مار کر مجھے سکون مل جائے گا اور اگر نبی ہیں تو آپ کو بہرحال معلوم ہوجائے گا، رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔‘‘