ناموس رسالت کے لئے سب کچھ قربان
قائد اہل سنت، محافظ ناموس رسالت، اسیرِ مفتیٔ اعظم،
الحاج محمد سعید نوری صاحب قبلہ
(بانیٔ رضا اکیڈمی و سکریٹری تحفظ ناموس رسالت بورڈ ممبئی)
اعلیٰ حضرت، مجدد دین و ملت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں۔
جان ہے عشق مصطفےٰ، روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ، ناز دوا اُٹھائے کیوں
ایک عاشق رسول کے لئے تحفظ ناموس رسالت ہی سب کچھ ہے۔ وہ ہر طرح کا نقصان برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ناموس پر ذرہ برابر آنچ آئے اسے کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ کچھ ماہ قبل دفتر رضا اکیڈمی ممبئی پر میرے نام سے بذریعہ کورئیر ایک کتاب آئی، جس کا نام ’’محمد‘‘ ہے، اس کتاب پر بطور مصنف ’’وسیم رضوی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ مذکورہ کتاب کاسرِ ورق ہی اتنا گندہ اور توہین آمیز بنایا گیا ہے کہ کوئی بھی سچا مسلمان اسے دیکھ کر کبھی چین و سکون سے نہیں رہ سکتا۔ کتاب کی فہرستِ عناوین بھی اس قدر توہین آمیز اور گستاخانہ انداز لئے ہوئے ہے کہ ہر سچا عاشق رسول غیرت سے مر جانا پسند کرے گا لیکن ایسے توہین آمیز عنوانات کو پڑھنا اور دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔ کتاب کو دیکھنے کے بعد میری جو کیفیت ہوئی اس کو زبان اور قلم سے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ میری آنکھوں نے ایسے نا زیبا الفاظ حضور اقدس ﷺ کی شان اقدس میں نہ کبھی دیکھا اور نہ ہی کانوں نے سنا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ دین اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں شان رسالت مآب ﷺ میں ایسی توہین آمیز باتیں اور گستاخانہ اظہار خیال شاید ہی کبھی کسی نے کیا ہو۔ کتاب کو دیکھنے کے بعد بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور میرا دعویٰ ہے کہ کسی بھی عاشق رسول ﷺ کی آنکھیں ان عبارتوں کو دیکھنے کے بعد پرسکون نہیں رہ سکتیں۔ دل میں خیال آیا کہ اس کا جواب دینا فرض عین ہےتاکہ دنیا کے سامنے ذات مصطفےٰ ﷺ پر لگائے گئے الزامات اور بہتان تراشیاں کائی کی طرح چھنٹ جائیں۔ میں نے بِلا تاخیر پیر طریقت، رہبر شریعت، جانشین مخدوم سمنان، صاحبِ سجادہ، حضرت علامہ مولانا الشاہ سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی (صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و مرکزی صدر تحفظ ناموس رسالت بورڈ) سے ملاقات کرکے تبادلہ خیال کیا اور یہ طے پایا کہ فوری طور پر تحفظ ناموس رسالت بورڈ کے زیر اہتمام اس کتاب کا جواب منظر عام پر لایا جانا چاہئے تاکہ اپنوں کو اطمینان ہو سکے اور غیروں کے منہ پر طمانچہ لگ سکے۔ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے علماء کرام کے ساتھ میٹنگ کی گئی، لائحہ عمل تیار کیا گیا اور معین المشائخ کی سرپرستی میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ و عندیہ ظاہر کیا گیا۔
ملعون وسیم رضوی کی بکواس اور ہفوات پر جوابی کتاب کی تیاری شروع ہوئی۔ جامعہ قادریہ اشرفیہ کے منتظم اعلیٰ مولانا محمد ابراہیم آسی صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ بہت ہی مختصر وقت میں انہوں نے اس کتاب کی تکمیل کی اور ملعون وسیم رضوی کی کتاب ’’محمد‘‘ کا مدلل اور دندان شکن جواب ’’عظیم محمد‘‘ کے نام سے تیار ہو گیا۔
الحمدللہ! کتاب ایسی جامع اور مدلل تیار ہوئی ہے کہ آئندہ قرآن، اسلام اور ذات مصطفےٰ ﷺ پر الزامات لگانے سے پہلے کوئی بھی بدبخت سو بار سوچنے پر مجبور ہوگا۔ ان شاء اللہ ہماری کوشش ہوگی کہ اس کتاب کو متعدد زبانوں میں شائع کرایا جائے تاکہ اپنوں اور غیروں کے ہر فرد تک اس جوابی کتاب کو پہنچایا جا سکے۔
حضرت مولانا محمد ابراہیم آسی صاحب نے مستند حوالوں اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر اس کتاب کے ذریعہ جھوٹے مصنف ملعون وسیم رضوی کے تابوت میں ایسی کیل ٹھونکی ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ کوئی بھی جری و بدبخت اس طرح کی نازیبا حرکت کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوگا جبکہ اس جوابی کتاب کے ذریعہ اہل ایمان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور کسی بھی طرح سے اس کی اشاعت میں تعاون کرنے والوں کو دونوں جہان کی بھلائی اور دنیا و آخرت کی سرخروئی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین الکریم ﷺ
طالب دعا
اسیر مفتی اعظم ، محمد سعید نوری