فرشتے

فرشتے

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّحُ وَ الْمَلٰئِکَۃُ صَفّاً لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلاَّمَنْ اَذِنَ لَہٗ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَواَباً(پارہ۱۰، رکوع۲)
ترجمہ: جس دن جبرئیل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے سراپا باندھے کوئی بول نہ سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا۔
برادران اسلام قرآن مقدس میں جگہ جگہ فرشتوں کا ذکر آیا ہے فرشتوں کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے جو فرشتوں کے وجود سے انکار کرے وہ گمراہ ہے فرشتے نوری مخلوق ہیں بعض فرشتے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے اپنے کاموں پر مامور ہیں اور بعض فرشتے صرف عبادت الٰہی کرتے ہیں ان میں کوئی مذکر و مونث نہیں ہوتا اور انہیں کھانے کی حاجت نہیں ہوتی فرشتوں کی صحیح تعداد اللہ تبارک و تعالی ہی جانتا ہے فرشتوں کے بازو ہوتے ہیں سرور کائنات ﷺ نے شب معراج میں حضرت جبرئیل کے چھ سو بازو دیکھے فرشتے معصوم ہوتے ہیں وہ صرف وہی کرتے ہیں جس کا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوتا ہے چار جلیل القدر اور مشہور فرشتے ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام، حضرت اسرافیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام اور حضرت عزرائیل علیہ السلام۔
قرآن مقدس کی چند آیات کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے جن میں فرشتوں کا ذکر ہے۔ سورہ معراج میں ہے ’’ملائکہ اور جبرئیل اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں‘‘ سورہ حاقہ میں ہے ’’اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوںگے اور اسی دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیںگے‘‘ سورہ تحریم میں ارشاد ربانی ہے ’’اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے فرشتے مقرر ہیں‘‘ سورہ قدر میں ہے ’’اس رات میں فرشے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے۔‘‘
سورہ فجر میں ہے ’’جب زمین ٹکڑے ہو کر پاش پاش کر دی جائے اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار ہوں۔‘‘
پیارے دینی بھائیو! مذکورہ بالا بیان سے واضح ہو گیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ے فرشتوں کو پیدا فرما کر الگ الگ کام سونپ دیا ہے ہر ایک اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہے لہذا ہمیں فرشتوں پر یہ یقین رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ایک نوری مخلوق ہے اور گناہوں سے پاس ہے فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔