
فرائض سے کوتاہی

آج سماج میں بسنے والے مسلمان فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کردیا ہے نماز ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے ، روزہ رکھنا ان پر گراں گزرتا ہے سنت رسول پر عمل پرا ہونا مشکل سمجھتا ہے ۔ برادران اسلام جلسہ جلوس منعقد کرتا بلاشبہ باعث ثواب ہے ۔ لیکن اس سے زیادہ اہم فرض نماز کی ادائیگی ہے ۔ محرم کا کھچڑا پکانا اور سبیل لگانا باعث ثواب ہے لیکن اس سے زیادہ اہم فرض نماز کی ادائیگی ہے ۔ پیر و مرشد کی دست بوسی کرنا اور ان کی خدمت کرنا بلاشبہ باعث اجر و ثواب ہے لیکن اس سے زیادہ اہم فرض نماز کی ادائیگی ہے۔ مقدس راتوں میں شب باشی کرکے نوافل اور تسبیح و تحلیل کا اہتمام کرنا بلاشبہ باعث اجر و ثواب ہے لیکن اس سے زیادہ اہم فرض نماز کی ادائیگی ہے ۔ لیکن جب ہم سماج کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ نیاز و فاتحہ میں توجہ تو دیتے ہیں لیکن نماز ادا کرتے نظر نہیں آتے ، مزاروں پر حاضری دیتے ہوئے تو نظر آتے ہیں لیکن وہیں بنی ہوئی سیدھی چار رکعت فرض کی ادائیگی اس سے نہیں ہوتی محرم کا کھچڑا پکانے اور سبیل لگانے میں ایسے منہمک ہوتے ہیں نماز کا وقت آتا ہے اور گزر جاتا ہے اور نماز ادا نہیں ہوپاتی پیر و مرشد کی خدمت کیلئے وقت تو ملتا ہے لیکن نماز کی کوئی فکر نہیں ۔ مقدس راتوں میں شب گشتی تو کرتے ہیں لیکن نماز فجر ادا نہیں ہو پاتی میرے سنی بھائیو ! غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے چاہنے والو ، خواجہ غریب نواز کے دیوانو، مسلک اعلیٰ حضرت پر چلنے والوآپ غوث اعظم کی زندگی کا ایک واقعہ بتادو جس میں انہوں نے ایک وقت کی نماز چھوڑی ہو ۔ خواجہ غریب نواز کی سوانح عمری میں سے ایک ایسا واقعہ بتاؤ ۔ جس میں آپ کی ایک وقت کی نماز قضا ہوئی ہو ۔ امام عشق و محبت امام احمد رضا کی زندگی کے ایک ایک گوشے کو مطالعہ کرو ۔ بے پناہ دینی مصروفیات کے باوجود فرائض کو کیا سنن کو ترک کئے ہوں تو مجھے بتایئے ۔ مجاھدین اسلام نے اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے نماز کو نہیں چھوڑیں اور عین لڑائی میں سجدہ ریز ہو گئے ہیں ۔ امام حسین عالی مقام نے کربلا میں گردن کٹائی مگر نماز قضا نہیں ہونے دی ۔ میرے سنی بھائیو! اگر آپ سنیت کو بدنام ہونے سے بچانا چاہتے ہو تو نیاز فاتحہ کے ساتھ آپ کو نماز ادا کرنی ہوگا۔ مزاروں پر حاضری کے ساتھ ساتھ فرض نماز کی دائیگی کا اہتمام کرنا ہو گا ۔ کھچڑا پکانے اور سبیل لگانے کے ساتھ ساتھ اپنی نماز کو قضا ہونے سے بچانا ہوگا۔ پیر و معشد کی خدمت کرتے ہوئے نماز کا اہتام کرنا ہوگا ۔ مجھے کہہ لینے دیا جائے کہ غوث اعظم سے بڑھکر آپ سنی نہیں ہوسکتے ، خواجہ غریب ناز سے بڑھکر آپ سنی نہیں ہوسکتے ، مخدوم سمانی سے بڑھ کر آپ سنی نہیں ہوسکتے ، نظام الدین اولیاء سے بڑھکر آپ سنی نہیں ہوسکتے ، مفتی اعظم ھند سے بڑھکر آپ سنی نہیں ہوسکتے ، امام عشق ومحبت امام احمد رضا سے بڑھکر آپ سنی نہیں ہو سکتے ، ان تما م حضرات نے ان تما م چیزوں کو نماز پر فوقیت نہیں دی ۔ آپ کی اور ہماری گنتی کیا ہے ۔ ہم تو ان کے خادم ہیں ۔ ان کے نقش قدم پر چلنا ہمارے لئے معراج زندگی ہے ۔
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن لفظ احکام الہٰی کا پابند