غیبت

غیبت

یٰاَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُواْ اجْتَنِبُواْ کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُواْ وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَن یَّاکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہتُمُوْہُ(پارہ۲۶،رکوع۱۴)
ترجمہ: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوتا ہے اور عیب نے ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا۔
برادران اسلام کسی کی غیبت کرنا حرام ہے قرآن مقدس میں صاف اور واضح انداز میں فرمایا گیا ہے کہ غیبت کرنا اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے لیکن آج مسلمان غیبت گوئی میں لگے رہتے ہیں حدیث شریف میں ہے کہ سید المرسلین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے ایسی بات کہی جائے اسے ناگوار گزرے اگر وہ بات جھوٹی ہے تو غیبت ہے گر سچی ہے بہتان ہے مسلمانوں میں بدگمانیاں بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہیں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے بدگمان ہونا گناہ ہے آیت مذکورہ میں ارشاد ربانی ہے بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو۔
گمان کی کئی قسمیں ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا واجب ہے مومن اور صالح انسان سے اچھا گمان رکھنا مستحب ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مومنوں کے ساتھ برا گمان رکھنا حرام ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ کسی سے برا گمان نہ رکھیں کسی کی غیبت نہ کریں کسی مسلمان بھائی کی غیبت نہیں ہونی چاہیے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے اشاد فرمایا الغیبۃ الشد من الزناء غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایسا کیوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا مرد زنا کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی مغفرت نہ ہوگی جب تک کہ وہ معاف نہ کرے جس کی غیبت کی ہے۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں عیب جوئی بدگمانی اور غیبت سے پرہیز کرنا چاہیے۔