غم کا پہاڑ

غم کا پہاڑ
اعلان نبوت کے چھٹے سال، دو عظیم ہستیاں حضرت حمزہ اور حضر عمر فاروق رضی اللہ عنہما، اسلام قبول کئے، ایک دن حضرت حمزہ نے اپنی کمان سے ابوجہل کا سر پھوڑ دیا کہ تو میرے بھتیجے کو گالیاں دیتا ہے۔ حضرت حمزہ کے اسلام لانے کے ۳؍ دن بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسلام لائے۔
کفار مکہ نے ظلم و ستم کے سلسلہ کو یہیں پربس نہیں کیا ۔بلکہ اعلان نبوت کے ساتویں سال آپ کو اور اپ کے خاندان والوں کو شعب ابی طالب میں محصور کرکے بائیکاٹ کر دیا ۔یہ پابندیاں عائد کیں کہ کوئی بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے، کوئی ان کو سامان فروخت نہ کرے، سلام وکلام ،میل جول نہ رکھے، کھانے پینے کا سامان نہ بھیجے ،یہ شرائط خانہ کعبہ میں لٹکا دی گئیں۔
ابولہب کے علاوہ خاندان بنو ہاشم کے کافروں نے بھی خاندانی پاسداری کی بنا پر آپ کا ساتھ دیا۔ یہ ۳؍ برس کا زمانہ سخت گزرا ،بنو ہاشم درخت کے پتے سوکھے چمڑے پکا کر کھاتے ،بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ کر رات دن گزارے کرتے تھے۔
ایک دن ابوطالب نے کفار مکہ سے کہا کہ میرے بھتیجے محمد کہتے ہیں کہ اس معاہدہ ،کو کیڑوں نے کھا لیا ہے۔ صرف اللہ کا نام لکھا ہوا ہے، اگر واقعی کیڑوں نے کھا لیا ہے تو دستاویز کو پھاڑدو ،اگرنہیں کھایا ہے تو میں اپنے بھتیجے کو تمہارے حوالے کر دوں گا ۔یہ سن کر مطعم بن عدی کعبہ کے اندر گیا ،دستاویز کو لایا دیکھا کہ دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا ہے۔ صرف اللہ کا نام باقی ہے،معاہدہ کو پھاڑ دیا گیا اور اعلان نبوت کے ۱۰؍ ویں سال یہ بائیکاٹ ختم ہوا۔
بائیکاٹ ختم ہونے کے آٹھ ماہ بعد آپ کے پیارے چچا ابوطالب کا انتقال ہو گیا ۔آپ کے لئے یہ روح فرساحادثہ تھا۔ چچا نے ہرموڑ پر آپ کا ساتھ دیا تھا۔ یہ غم تازہ ہی تھا کہ آپ کے چچا کے انتقال کے ۵؍ دن بعد، آپ کی پیاری شریک حیات ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ آپ کے دل پر بڑا صدمہ گزرا ،اس سال کا نام آپ نے عام الحزن، یعنی غم کا سال رکھ دیا۔