عیش پرستی
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلوٰۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہْوَاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُؤْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا(پارہ۱۶، رکور۷)
ترجمہ: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوںنے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ جنگل غی کا جنگل پائیںگے مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیںگے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا۔
برادران اسلام کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی کی عیش پرستی میں مشغول ہیں انہیں آخرت کی کوئی پرواہ نہیں مومنوں کے لیے یہ دنیا قید خانہ ہے پھر اس میں عیش و آرام کیا معنی رکھتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر والوں نے کبھی بھی دو دن مسلسل جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں منبر رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ کے درمیان غش کھا کر گر پڑا تھا آنے والا آتا اور مجھے دیوانہ سمجھتے ہوئے میری گردن پر اپنا پاؤں رکھتا حالانکہ مجھے جنون نہ تھا صرف بھوک تھی۔
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور سید المرسلین ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز پڑھا رہے ہوتے تو کچھ لوگ حالت قیام میں ہی بھوک کی وجہ سے گر پڑتے اور یہ اصحاب صفہ تھے یہاں تک کہ دیہاتی لوگ کہتے نماز سے فارغ ہو کر حضور سید عالم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے اگر تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں تمہارے لیے کیا ہے تو تم چاہتے کہ تمہارا فاقہ اور حاجب اور زیادہ بڑھ جائے۔
حضرت ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم سنتے نہیں کیا تم سنتے نہیں عیش و عشرت کا ترک کرنا ایمان سے ہے عیش و عشرت کا ترک کرنا ایمان سے ہے
پیارے دینی بھائیو! ہمیں اس فانی زندگی میں عیش و عشرت کو ترک کرنا چاہیے اور اپنی عاقبت سنوارنا چاہیے۔