’’عمدہ کھانا کھانے اورنیالباس پہننے کانام عید نہیں‘‘
محمد ابراہیم آسی جامعہ قادریہ اشرفیہ ممبئی 9773243392
بلا شبہ عید خوشیوں کا تہوار ہے عید آتی ہے خوشیاں لاتی ہیں ،بچے بوڑھے اور جوان سبھی خوشیوں میں سرشار نظر آتے ہیں ۔کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ عید کی خوشیاں کس کے لئے ہے حقیقت میں عید کی خوشیاں انہیں میسر نہ ہوگی جو استطاعت کے باوجود روزہ نہیں رکھا نمازتراویح کا اہتمام نہیں کیا قرآن کی تلاوت سے فیضیاب نہیں ہوا،صاحب نصاب ہوکر زکوۃ کی ادائیگی نہیں کی ،غریبوں اور محتاجوں کی مدد نہیں کی ،بلکہ قلبی خوشی انہیں ہوگی جنہوں ان چیزوں کا اہتمام کیا ،سیدنا حضرت علی کی خدمت میں عید کے دن ایک شخص حاضر ہوا آپ اس وقت جو کی روٹی کھارہے تھے اس نے عرض کیا آج عید کا دن ہے اور آپ جو کی روٹی کھارہے ہیں ؟حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا آج عید تو اسکی ہے جس کا روزہ قبول ہو ،جسکی محنت قبول ہو،جس کے گناہ بخش دیئے گئے ہوں آج کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہوگا اور وہ دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے جس دن ہم اللہ تعالی کی نا فرمانی نہ کریں ۔
برادران اسلام!نئے لباس زیب تن کرنے ،عمدہ کھانا کھانے ،عطر سرمہ لگانے سے ہماری عید نہ ہوگی حقیقت میں ہماری عید اس وقت ہو گی جب ہم اپنے پڑوسی بھی خیا ل رکھیں کہ ہمارا پڑوسی عید کے دن بھوکا تو نہیں ہے اگر ہمارا پڑوسی اور پڑوسی کے بچے بھوکے رہیں تو ہم عید کی خوشیاں کیسے حاصل کر سکتے ہیں ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا وہ مو من کا مل نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھا ئے اور اس کا پڑوسی بھو کا رہے ۔
حضور غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب غنیتہ الطا لبین میں ارشاد فرماتے ہیں ،عید میں نیا لباس پہننے ،عمدہ اور لذیذ کھا نا کھا نے ،حسین عورتو ں سے معانقہ کر نے ،لذت اور شہوت لطف اندوز ہو نے سے عید نہیں ہو تی ۔ بلکہ مسلمانوں کی عید تو طاعت وبندگی کی علا مت ہے گنا ہوں کے بدلے نیکیوں کے حصول سے ،درجات کی بلندی کی بشارت سے ،اللہ تعالی کی طرف سے انعامات حاصل ہو نے سے نو ر ایمان سے سینہ منور ہو نے سے ،دل میں سکون پیدا ہو نے سے ،عید کی حقیقی خو شیاں انسان کو حاصل ہو تی ہیں ۔
لو گ با رگا ہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ میں حاضر ہو ئے تو دیکھا کہ خلیفہ وقت دروازہ بند کر کے رو رہے ہیں لو گو ں نے حیران ہوکر عر ض کیا یا امیر المو منین آج تو خوشی منا نا چا ہئے پھر یہ رو نے کا سبب کیا ہے ؟
عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فر مایا اے لو گو آج کا یہ دن عید کا بھی ہے اور وعید کا بھی ،آج جس کے رو زے نماز قبول ہو گئے بلا شبہ آج اس کے لئے عید ہے لیکن آج جس کے رو زے نماز قبول نہ کرکے اس کے منہ پر ما ردیئے گئے ہوں آ ج کا دن اس کے لئے وعید کا دن ہے میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ مقبول ہوں یا رد کر دیا گیا ہوں ۔
اپنے اپنے طریقے سے ہر قوم خوشیا ںمنا تی ہے ،کا فر کی عید شیطان کی خوشنودی کے لئے ہو تی ہے اور مو من کی عید اللہ تعالی ٰ کی خوشنودی اور رضا کے لئے ہو تی ہے مومن عید کے لئے عید گا ہ جا تا ہے تو اس کے سر پر ہدا یت کا تا ج ہو تا ہے ،حیا اور شرم اس کی آنکھوں سے
۔۔۔
ظا ہر ہو تی ہے کان حق سننے سکی طرف راغب ہو تے ہیں زبا ن پر توحید کی شہا دت او ردل میں معرفت اور یقین ہو تا ہے اس کی منزل خانقاہ او ر مسجد ہو تی ہے ۔
کا فر عید کے لئے جاتا ہے تو اس کے سر پر نامرادی اور گمراہی کا تاج ہو تا ہے کا نوں پر غفلت کا پردہ پڑا رہتا ہے ۔آنکھیں بے حیا ئی
او رخواہشات نفسانی کا پتہ دیتی ہیں ،زبان پر بد بختی اور شقاوت کی مہر لگی ہو تی ہے ،دل پر جہا لت او ر انکار کا اندھیراچھا یا رہتا ہے مومن اور کا فر کی عید میں یہی فرق ہے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانی قمیض پہنے دیکھا تو رو پڑے ،بیٹے نے کہا ابا جان!آپ کس لئے رو تے ہیں ؟حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا بیٹے مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑکے تجھے پھٹی پرانی قمیض میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹو ٹ جا ئے گا ،بیٹے نے جوا ب دیا دل تو اس کا ٹوٹے جورضا الہی کو نہ پا سکا یا اس نے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو ،
او رمجھے امید ہے کہ آپ کی رضا مندی کی وجہ سے اللہ تعالی بھی مجھ سے راضی ہو گا ۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ رو پڑے بیٹے کو گلے لگا یا او راس کے لئے دعا کی ۔
بعض لو گ عید کے دن عید کی خوشی میںفلم بینی،تفریح گاہو ں اور خرافات کی طرف رخ کرتے ہیں ،ماہ رمضان میں جتنی نیکیاں نہیں حاصل کئے اس سے زیادہ گناہ کر نے کی کوشش کرتے ہیں عید کی خوشی میں کھیل کود ،لہو و لعب میں وقت گزارنا زمانہ جاہلیت کے لو گوں کا شیوہ تھا عید کی خوشی میں رب کا شکریہ ادا کرنے کے طو ر پر اور زیادہ نیک کا موں کی طرف مائل ہو نا چا ہئے ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب صلی اللہ علیہ ہجرت فر ما کر مدینہ منورہ تشریف لا ئے تو آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو ا کہ یہاں کے لو گ سال میں دو دن کھیل کو د میں گزا رتے ہیں او ر خوشیاں منا تے ہیں اس پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا کہ یہ دو دن کیسے ہیں ؟لو گوں نے عرض کیا ان دنوں میں ہم لوگ زمانہ جاہلیت کے اندر خو شیاں منا تے اور کھیل کود کرتے تھے ۔حضورسرور کا ئنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالی نے تمھا رے لئے ا ن دو،دنوں کو بہتر دنو ں میں تبدیل کردیا ہے ان میں سے ایک دن عید الفطر ہے ،اور دوسرا دن عید الا ضحی ہے ۔
Post Views: 232