عورت کا غیر محرم مرد ڈاکٹر کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا کیسا؟

صورتِ مسئولہ میں جوان عورت کا کسی اجنبی (غیر مَحرم) ڈاکٹر کے ساتھ کمرے میں خَلْوَت (تنہائی) اختیار کرنا شرعی طورپر ناجائزو حرام ہے۔ چونکہ اجنبی مرد و عورت کا تنہائی میں جمع ہونا فتنے کا باعث ہے، اس لئے شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ ہاں اگر وہ نو سال سے کم عمر کی ہے یا حدِ فتنہ سے نکل چکی ہے یعنی ساٹھ ستر سال کی بَدشکل و کریہُ النظر (یعنی جس کی طرف دیکھنا پسندیدہ نہ ہو) بڑھیا ہو تو پھر خلوت حرام نہیں ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم