عورت ناقص العقل
برادران ملت! اسلام کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہے ۔ اسلام نے ہر جگہ مرد کو حاکم اور عورت کو محکوم بنایا ہے اس لئے کہ حاکم کے لئے شرط ہے عقل مند ہو ، کسی کام کے فیصلہ کرنے کا استعداد ہو لیکن عورتوں میں مکمل طور پر یہ نہیں پایا جاتا اس لئے کہ عورت ناقص العقل اور ناقص الدین ہے ناقص العقل تو اس لئے شرعاً ایک عورت کی گواہی مقبول نہیں ناقص الدین اس لئے کہ حیض و نفاس کی وجہ سے عبادات مکمل نہیں ہو ئیںاور حالت حیض اور نفاس میں جریان خون سے عقلی توازن برقرار نہیں رہتا اسی طرح ایام حمل میں جب وقت وضع قریب ہوتا ہے تو جسم بوجھل ہوجاتا ہے ۔ دل ودماغ برابر کام نہیں کرتا ۔ اکثر چکر آتا ہے ۔ لہٰذا ایسے کو حاکم بنانا خطرے سے خالی نہیں اسی لئے قرآن نے فرمادیا { الرجال قوامون علی النساء } مرد افسر ہیں عورتوں پر لیکن موجودہ دور میں عورتوں کے سر پر حاکم بننے کا بھوت سوار ہے اس لئے گھر یلومعاملہ روز بروز زبوں حالی کی طرف جارہا ہے ۔ سماج و معاشرہ اس وقت تک راہ براست پر نہیںآسکتا جب تک کہ قرآن پر عمل نہ کریں۔
ناقص العقل تیری ہی شان ہے
فرمادیا ہے جب مالک و مختار
Post Views: 57