عورت ایک، شوہر پانچ

عورت ایک، شوہر پانچ
اب ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو ملاحظہ کیجئے، وہ کہتا ہے اسلام میں کوئی دفعہ نہیں، جبکہ سو کوڑے یا سنگسار کی دفعہ ہے، یہ ایک اسلامی قانون ہے۔ ہر مذہب کا اپنا اپنا قانون اور دستور ہوتا ہے۔ کسی مذہب میں ایسا بھی ہے کہ کئی شخص مل کر ایک عورت سے شادی کرتے ہیں۔ یہ ان کے مذہب کا دستور ہے جیسا کہ ڈاکٹر محمد احمد نعیمی اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ، جلد دوم صفحہ ۵۹۴‘‘ پر لکھتے ہیں کہ رگوید میں ایک منتر کا ترجمہ دیانندسرسوتی اس طرح کرتا ہے۔
’’اے نیک بخت عورت! خوش نصیبی کی خواہش کرنے والی عورت !!تو میرے علاوہ دوسرے شوہر کی خواہش کر۔‘‘
ڈاکٹر محمد احمد نعیمی اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ جلد دوم کے صفحہ ۵۹۵ پر لکھتے ہیں کہ
چنانچہ مہابھارت آدی پرو میں لکھا ہے:
’’زبردست جلال والے پانڈوئوں نے جیسے ہی دروپدی کو دیکھا ویسے ہی پیار کے دیوتا نے ان کے حواس بافتہ کرکے ان پر اپنا اثر جما دیا۔ ایشور نے دروپدی کے خوبصورت حسن کو دوسری عورتوں کے بمقابل بہت حسین اور سبھی جانداروں کے دل کو مائل کرنے والا بنایا تھا۔ انسانوں میں اعلی اور کُنتی کے بیٹے یدھشٹر نے اپنے بھائیوں کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر ان کے دل کی بات سمجھ لی اور ساتھ ہی ساتھ ویاس رشی کی ساری باتیں یاد آگئیں۔ راجا یدھشٹر یہ سوچ کر کہ کہیں بھائیوں میں آپس میں دشمنی نہ ہو تمام بھائیوں سے بولے کہ بہترین خوبیوں والی دروپدی ہم سب کی بیوی ہے۔‘‘
کیا ملعون وسیم رضوی جواب دے گا کہ ایک عورت کے شوہر ہوتے ہوئے دوسرا شوہر کرنے پر کون سی دفعہ ہے؟ یا پانچ شخص ایک عورت کے ساتھ صحبت کریں تو کون سی دفعہ ان پر عائد ہوتی ہے؟ ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب اسی کتاب کے صفحہ ۵۵۴، پر لکھتے ہیں کہ مشہور اور معروف طور پر ہندو کی شادیاں آٹھ طرح کی ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک راکشش شادی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’مزاحمت کرنے والوں کو مارکر زخمی کرکے گھر کے دروازے توڑ کر روتی ہوئی لڑکی زبردستی اُٹھا کر لے جانے کا نام راکشش وواہ ہے۔‘‘ کیا ملعون وسیم رضوی بتائے گا کہ ہندودھرم کے اس رواج پر کونسی دفعہ عائد ہوتی ہے ؟مرتے دم تک ملعون وسیم رضوی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔