عورت اور پردہ
معزز سامعین کرام ! اسلام نے عورتوں کو بلند مقام عطا کیا،عورتوں کو پھول شمار کیا، عورتوں کو گھر کی ملکہ بنایا اس کی حفاظت کے لئے قانون مقرر کیا۔ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے۔
و قرن فی بیو تکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی عورتو ! اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ برادران اسلام اگلی جاہلیت سے مراد قبل اسلام کا زمانہ ہے جس زمانہ میں عورتیں اترا کر نکلتی تھیں اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں ۔ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ غیر مرد اس کو دیکھیں اور لباس اس طرح پہنتی تھیں کہ جسم کا نشیب و فراز نمایاں ہو جاتا تھا۔
اسلام عورتوں کو درس دیتا ہے کہ تم گھر میں رہو بے پردہ نہ نکلو پردہ تمہارے لئے بہت ضروری ہے کیو نکہ تم نازک آئینہ ہو ہلکی سی چوٹ تمہیں چکنا چور کرسکتی ہے ۔ تمہاری عزت و آبرو آئینہ کی طرح نازک ہے، ایک مرتبہ شگاف پڑجانے کے بعد اس کا مداوا نہیں ہو سکتا ہے۔ عورتو تم پھول ہو گھر تمہارے لئے چمن ہے پھول چمن ہی میں زیب دیتا ہے۔اگر پھول چمن سے باہر ہوجائے تو مرجھانے لگتا ہے۔اسلام نے عورتوں کی حفاظت کے لئے پردے کا حکم دیا۔ عورتوں کو پردہ میں رہنے کی تاکید کی۔ قرآن و حدیث میں پردے کی بہت تاکید آئی ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اپنے مقام کو سمجھے پردے کا خاص طور پر اہتمام کرے، پردے میں رہ کر خاص طور پر اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے ، اسلام کا حکم مانے جس اسلام سے ان کا کھویا ہوا مقام مل گیا اسی میں ان کے لئے دونوں جہان کی بھلائی ہے۔
پہن کے لباس بھی تو بے لباس
ہے غیر کی نگاہ تجھ پر کچھ احساس ہے
تیرا لبا س گھٹ کے ہوگیا مختصر
تم کو اپنے وقار کا ذرا بھی پاس ہے
پہن کر نہ چھپے جب تیرا جوبن
پھر تیر ی عزت کا ستیاناس ہے
لباس تنگ سے ہوتا ہے ظاہر
پہن لی ہے بڑی نے جھوٹی کا لباس ہے
صنف نازک ہو جائے باحجاب
ٓٓ آسیؔ کے دل کی فقظ یہی آس ہے
۔
Post Views: 26