عورت اور لباس
اسلام نے عورتوں کو پردے کا حکم دیا لیکن زینت کرنے سے منع نہ فرمایا ، بناؤ سنگار سے منع نہ فرمایا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتی ہیں عورتوں کو مہندی لگانے میں حرج نہیں لیکن میں نہیں لگاتی اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خوشبو پسندنہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ عورتوں کو چاہیے کہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلیاں مہندی کے رنگ سے بدل لیں اس سے معلوم ہوا کہ اسلام عورتوں کو زینت کرنے سے منع نہیں کرتا اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا { وقل للمومنت یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر یخمرھن علی جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعلتھن } اے میرے محبوب آپ مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگار نہ دکھائیں مگر خود ہی ظاہر ہو جائے اور دوپٹے اپنے گریبان پر ڈالے رہیں اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر ۔
برادران ملت آیت مذکورہ سے معلوم ہوگیا کہ عورتیں بناؤ سنگار کریں اپنے شوہروں کے لئے زینت کریں اپنے شوہروں کے لئے سنگار کریں اپنے شوہروں کے دل کو لبھانے کے لئے تاکہ شوہر کا دل بیوی طرف مائل ہو ، دوسری عورت کی طرف نہ جائے ۔ قرآن نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ بناؤ سنگار کرو اپنے شوہروں کے لئے ۔آج اگر عورتیں بناؤسنگار کرتی ہیں تو اس لئے کہ غیر مرد اس کی طرف دیکھیں۔اگر عورتیں بناؤسنگار کرتی ہیں تو اس لئے کہ منظور نگاہ ہو جائیں ، ایسی عورتوں کا لباس ناقابل قبول ہے ۔
برادران اسلام مقام افسوس ہے کہ بعض عورتیں مردوں سے مشابہت کرتی ہیں اپنے بال کٹوالیتی ہیں ، مردانہ لباس پہنتی ہیں اور کھلے عام سڑکوں پر گھومتی ہیں دیکھنے والوں کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا کہ عورت ہے یا مرد ، اللہ کی لعنت ہے ایسی عورت پر جو مردوں سے مشابہت کرے ۔
کیا چھپے جسم کا نشیب و فراز
لباس مغرب جو ملا ہے ادھار
لباس مرد میں آگئی ہے تو
تہذیب مغرب لیے تیرا شعار
پہن کے لباس بھی ہے عیاں
لازم ہے تجھ پر عذاب نار
Post Views: 44