عورتوں کی زبوں حالی
آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسلام سے پہلے عورتوں کی حالت ناقابل شنید تھی ۔ عورتوں کا کوئی مقام نہیں تھا ، عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی ۔ عورتوں کو کوئی نگاہ عزت سے نہ دیکھتے تھے ، عورتوں کو صرف نفسیاتی خواہش کا ذریعہ سمجھتے تھے ، لفظ عورت ایک گالی بن چکا تھا ۔ جہالت یہاں تک پھیل چکی تھی کہ بیوہ عورت کو منحوس سمجھتے تھے ، بیوہ عورت کے سایہ سے بھی لوگ دور رہتے ، بیوہ عورتوں کو سب نگاہ حقارت سے دیکھتے ، لوگوں کی درندگی یہاں تک پہونچ چکی تھی کہ اپنی لڑکی کو پیدا ہوتے ہی دفن کردیتے ، کسی لڑکی کا باپ یا بھا ئی بننا سب سے بڑی گالی تھی ۔ عورتوں کو حالت حیض و نفاس میں اپنے سے دور رکھتے ، یہاں تک کہ ان کے کھانے پینے کے برتن الگ کر دیتے ، عورتوں کو ناپاکی اور گندگی کا مجسمہ تصور کرتے ، عورتوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ۔ عورتوں کو اس کے باپ کے ترکہ سے حصہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ اس دور میں بیوہ عورت اپنی اجڑی ہوئی زندگی کو دوبارہ بسانے کا تصور نہیںکر سکتی تھی ۔ عورتوں کو حق حاصل نہیں تھا۔ عورتوں کو زبان کھلنے کی اجازت نہ تھی ۔ عورتوںکی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا ۔ عورت ایک حقیر مخلوق سمجھی جاتی تھی یہاں تک کہ عورت ظلم و ستم کا مجسمہ بن چکی تھی ۔
درگور سے بچایا اسلام نے
احکام اس کے کیوں گراں بار
Post Views: 24