

از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی
وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْماًl (پارہ۵،رکوع۱۴)
ترجمہ: اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔
برادرانِ اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور سید المرسلین ﷺ کو علم غیب عطا فرمایا اور وہ علم عطا فرمایا جو آپ کو معلوم نہ تھا اس سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم غیب اور سرورِ کائنات ﷺ کا علم غیب برابر نہیں کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے اللہ تعالیٰ کو کسی نے عطا نہیں فرمایا اور حضور سید المرسلین ﷺ کا علم غیب ذاتی نہیں ہے بلکہ عطائی ہے اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا حضور سید المرسلین ﷺ کے لیے غلم غیب عطائی ماننا ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرانا نہیں ہوگا بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے علم غیب عطائی نہ ماننا قرآنی آیات کا انکار کرنا ہوگا اس آیت کے لیے اور بھی آیات سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے علم غیب ثابت ہوتا ہے۔
سورہ جن میں ارشاد ربانی ہے کہ غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
پیارے دینی بھائیو! اسی آیت میں واضح کر دیا گیا کہ غیب کا جاننے والا یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کسی کو علم غیب نہیں بتاتی مگر اپنے پسندیدہ رسولوں یعنی اللہ عز و جل شانہ اپنے رسولوں کو بھی علم غیب عطا فرماتا ہے۔ حضور سیدِ عالم ﷺ سے زیادہ محبوب اور کون ہے آپ کے بارے میں ارشاد ربانی ہے وَلَسَوْفَ یُعْطِْیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضَی اے محبوب عنقریب تیرا رب تجھے اتنا عطا فرمائے گا کہ تو راضی ہو جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہمارے لیے غیب ہے کسی نے آج تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ نہیں فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تجلیات الٰہی کی جھلک دیکھی تو آپ بیہوش ہو گئے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں رأیتُ ربی بعینی راسی میں نے اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا دوسری غیب کی چیزیں کیا چھپی رہ سکتی ہیں
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہوگا بھلا۔
جب خدا ہی نہ چھپا تم پہ کروڑوں درود
Post Views: 261