علم دین کا حصول
فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّیْنِ وَ لِیَنْذرُوا قَوْمَہُمْ(پارہ۱۱، رکوع۴)
ترجمہ: تو کیوں نہ ہو ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو درس سنائے۔
پیارے دینی بھائیوں !علم دیں حاصل کرنا ہر مرد عورت پر فرض ہے کیونکہ ہم علم کے ذریعہ ہی اسلامی احکامات اور فرمان الہی سمجھ سکتے ہیں دوسری جگہ قرآن مقدّس میں ارشاد ربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اس کے بندوںمیں چند ہی ہیں سیدحضرت ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی علم دین پڑھنا یا پڑھانا رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے ۔ رسول کائنات ﷺسے دریافت کیا گیا اس علم کی حد کیا ہے کہ جسے آدمی حاصل کرے تو فقیہ یعنی عالم دین ہو جائے فخر موجودات علیہ الصلوہ والسلام نے ارشاد فرمایاجو شخص میری امّت تک پہنچانے کے لئے دینی امور کی چالیس حدیثوں کو یاد کرلے گا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے قیامت کے دن عالم دین کی حیثیت سے اٹھائیگا اور قیامت کے دن میں اسکی اس کی شفاعت کروںگا اور اس کے حق میں گواہ رہوںگا۔
سید نا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عالم دین افضل ہے یا عابد؟ حضور رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا اے شخص تیرے اس سوال پر فرشتوں کو بھی تعجب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک سست عالم ستر ہزار محنتی اور رات بھر جاگ کر نماز پڑھنے والے دن بھر روزہ رکھنے والے عابد سے بہتر ہے۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم خود علم دین حاصل کریں اپنے گھر والوں کو علم دین سیکھنے کی تاکید کریں اگر ممکن ہو تو اس کے لیے سختی بھی کریں لیکن آج معاملہ برعکس نظر آتا ہے مسلمان اپنے بچوں کو عصری علوم اور دنیاوی علوم دلانے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن علم دین سکھانے میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلا شبہ یہ ہمارے لیے دونوں جہاں میں خسارہ کا باعث ہے۔