علم دین اور سفر

علم دین اور سفر
حضرت ابودردا کے پاس دمشق کی مسجد میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مدینہ منورہ سے آپ کے پاس ایک حدیث سننے آیا ہوں مجھے خبر ملی ہے کہ آپ اسے بیان کرتے ہیں۔ دور دراز سفر طے کرکے کسی دولت کے لالچ میں نہیں کسی شہرت و عزت کے لالچ میں نہیں بلکہ حدیث سننے آیا ہوں آپ مجھے وہ حدیث پاک سنائیے۔ حضرت ابو دردا نے فرمایا کہ میں نے رسول خدا صلے اللہ تعالی علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص علم کی طلب میں کسی راستے کو چلے تو اللہ تبارک و تعالی اس کو جنت کے راستے پر لے جاتا ہے اور طالب علم کی خوشنو دی کے لئے فرشتے اپنے بازو بچھادیتے ہیں ،عالم کے لئے آسمان والے اور زمین میں بسنے والے اور پانی کے اندر مچھلیاں سب استغفار کرتے ہیں۔ اور عالم کی فضلیت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر اور بے شک علماء وارث انبیاء ہیں۔