عظمت مصطفی

عظمت مصطفی
موسی علیہ السلام کو جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے توریت عطا کی تو کوہ طور پر بلا کر عطا کی لیکن حضور علیہ السلام کو قرآن دینا ہوا تو کسی ایک جگہ بلا کر قرآن عطا نہیں کیا ۔ اگر غار حرا میںہیں تو جبرئیل قرآن وہیں لیکر حاضر ہورہے ہیں ۔ اگر آپ مکہ کی گلیوں میں ہیںجبرئیل قرآن لے کر وہیں حاضر ہورہے ہیں ۔ اگر مسجد نبوی میں ہیں تو جبرئیل قرآن لے کر وہیں حاضر ہورہے ہیں اگر غزوہ ہیں تو جبرئیل قرآن لے کر وہیںآرہے ہیں۔ اگر آپ خدیجہ الکبری کے بستراقدس میں آرام فرما رہے ہیں تو جبرئیل قرآن لے کر وہیں تشریف لا رہے ہیں ۔ یہ ہے عظمت مصطفی جہاں محبوب ہوتے ہیں قرآن وہیں بھیجا جارہا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے عرض کیا یا اللہ تو مجھے اپنا جلوہ دکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لن ترانی اے موسیٰ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے ۔ جب موسیٰ علیہ السلام اصرار کئے تو اللہ تبارک تعالیٰ نے ایک ہلکی سی جھلک کوہ طور پر ڈالی ، موسیٰ علیہ السلام تاب نہ لاکر بے ہوش ہو گئے اب آئیے بارگا ہ مصطفی میں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا جلوہ دکھانے کے لئے اپنے پاس بلاتا ہے اور قریب سے قریب تر ہونے کے لئے کہتا ہے{ یااحمدادن منی} اے میرے حبیب میرے قریب ہو جاؤ ۔وہاں موسیٰ علیہ السلام ایک جھلک برادشت نہ کرسکے بیہوش ہوگئے اور یہاں سراپا ذات اقدس دیکھنے کے باوجود آنکھیں  نہیں چندھیا رہی ہیں ۔{مازاغ البصر وما طغی} اسی لئے تو اعلیٰ حضرت فاضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں۔
تبارک اللہ  شان تیری  تجھی کو زیباہے  بے نیازی!
کہیں تووہ جوش لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے تھے