عشق مصطفی کا داغ
معزز سامعین کرام! آپ امام عشق و محبت کی زندگی کا مطالعہ چشم انصاف کیجئے تو یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ امام احمد رضا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عشق رسول میں گذراہے ۔ امام احمد رضا کا ایک ایک کام عشق رسول میں ہوا ہے ، اگر امام احمد رضا نے کسی کو کافر کہا ہے تو عشق رسول میں ، اگر کسی سے دشمنی کی ہے تو عشق رسول میں اگر پانی کا ایک گھونٹ پیا ہے تو عشق رسول میں ، اگر نماز ادا کی ہے تو عشق رسول میں ، اگر روزہ رکھا تو عشق رسول میں ، قلم اٹھایا ہے تو عشق رسول میں ، فتوی لکھا ہے تو عشق رسول میں ، اپنی دنیاوی زندگی گذاری ہے تو عشق رسول میںالدولۃ المکیۃ لکھا ہے تو عشق رسول میں ، فتاوی رضویہ کا وجود ہوا تو عشق رسول میں ، کنزالایمان تیار کیا تو عشق رسول میں ، خانہ کعبہ کا حج کیا تو عشق رسول میں ، اگر خانہ کعبہ کی زیارت کی تو عشق رسول میں
غور سے سُن تو رضا کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو
اپنے سینے کو منور کیا تو عشق رسول میں ، اپنے سینے میںآگ لگائی تو عشق رسول کی
اے عشق تیرے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھادے گی وہ آگ لگائی ہے
نعت نبی گنگنائے تو عشق رسول میں،حدائق بخشش کی تخلیق ہوئی تو عشق رسول میں ، اس دنیا سے گئے تو عشق رسول میں ، سینے میں داغ لے گئے تو عشق رسول کا
لحد میں عشقِ رخ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
Post Views: 23