عبارت گھوٹالہ

عبارت گھوٹالہ
محترم قارئین! اب آپ ہی بتائیے فتاوی قاضی خان نے جو کچھ لکھا ہے سب درست اور صحیح ہے لیکن ملعون وسیم رضوی نے جان بوجھ کر عبارت میں خیانت کی ہے۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پوری عبارت میں کہاں گھوٹالہ کیا ہے۔ عبارت کے پہلے حصے کو لیا ہے اور دوسرے حصے کو چھوڑ دیا ہے جب دونوں کو ایک ساتھ رکھیں گے تو مطلب اور مفہوم صحیح نکلے گا۔ اگر ایک حصہ لے لیا اور دوسرا چھوڑ دیا تو مطلب میں آسمان و زمین کا فرق ہو جائے گا۔ جیسے لوتزوج امراۃ ثم نکح اختھاجاز نکاح الاولیٰ وبطل نکاح الثانیہ اس نے یہاں تک کہا لوتزوج امراۃ ثم نکح اختھا جاز اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی نے عورت سے نکاح کیا پھر اس کی بہن سے نکاح کیا تو جائز ہے۔ اور نکاح الاولیٰ وبطل نکاح الثانیہ چھوڑ دیا۔ جو بہت بڑا گھوٹالہ ہے۔ جب جاز کے بعد نکاح الاولی وبطل نکاح الثانیہ لکھیں گے تو بات پوری ہوگی اور اس وقت مطلب یہ نکلے گا کہ دونوں بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا، جائز ہے اور اس کی بہن سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہ ہے ملعون وسیم رضوی کا گھوٹالہ۔
محترم قارئین! ایک دوسری مثال دے کر آپ کو سمجھاتا ہوں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور اپنے ثبوت میں سورہ نساء کی آیت نمبر ۴۳؍ پیش کرے یٰاَ اَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْالَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ۔ ترجمہ: ’’اے ایمان والو! نماز کے قریب نہ جائو‘‘ اور آگے کا جملہ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی چھوڑ دے تو مطلب و مفہوم میں آسمان و زمین کا فرق ہو جائے گا۔ جب کہ آیت کا مطلب یہ ہے، ’’اے ایمان والو! نماز سے قریب نہ ہو جب تم حالتِ نشہ میں ہو۔‘‘ اس طرح کی خیانت ملعون وسیم رضوی نے کی ہے۔ اب آپ کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ وہ کتنا بڑا گھوٹالہ باز ہے۔
دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام ہے۔ قرآن میں سورئہ نساء، آیت ۲۳،
وان تجمعوا بین الاختین اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا حرام ہے۔ اب کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ اسلام میں بیوی کے ساتھ اس کی بہن سے شادی کرنا حلال ہے۔ جو ایسا کہے گا وہ اسلام میں بہتان باندھنے والا جھوٹا ہے۔