عالم اور عابد
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ عالم افضل ہے یا عابد ؟ سرکار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کے ساتھ ارشاد فرمایا اے شخص تیرے اس سوال پر فرشتوں کو تعجب ہوگا کیوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک ایک سست عالم ستر ہزار محنتی اور رات بھر جاگ کر نماز پڑھنے والے اور دن بھر روزہ رکھنے والے عابد سے بہتر ہے ۔ برادران ملت یہ مرتبہ تو سست عالم کا ہے تو چست عالم کا کیا مرتبہ ہوگا ۔
ایک دوسری جگہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے ادنی پر ۔ اس کے بعد سرکار دو عالم صلے اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اور تمام آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ سوراخوں میں چیونٹیاں اور سمندر میں مچھلیاں اس کی بھلائی کی دعائیں مانگتی ہیں جو لوگوں کو اچھی چیز کی تعلیم دیتا ہے۔
Post Views: 37