ظلم وستم
آپ پر ظلم و ستم کرنے والے کفار مکہ کی فہرست بہت لمبی ہے۔ ان میں خاص کر ابولہب، ابوجہل، ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف، ابی بن خلف کے نام مشہور ہیں، جنہوں نے آپ کو بے حد ایذا پہونچائی۔ آپ حالت نماز میں تھے، ابوجہل نے کہا، ہے کوئی جو ان جو اونٹ کی اوجھڑی ان گردن پر ڈالے، کمبخت عقبہ بن ابی معیط نے آپ کے کاندھے پر رکھ دیا۔ کافر و مشرک ٹھٹھا مار کر ہنسنے لگے، حضرت فاطمۃ زہرا رضی اللہ عنہا نے، جو ابھی کمسن تھیں ان کو برا بھلا کہتے ہوئے اوجھڑی کو کاندھے مبارک سے ہٹادیا۔
آپ کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو سخت ایذائیں دیں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو امیہ بن خلف کے غلام تھے، ان کی گردن پر رسی باندھ کر بازار میں گھسیٹتے لاٹھیاں برسائی جاتیں۔ تیز دھوپ میں گرم ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھ دیا جاتا کہ اسلام سے پھر جائے مگر حضرت بلال اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے کا نعرہ لگاتے۔
جب کفار نے مسلمانوں کو بےحد ستانا شروع کیا تو آپ نے صحابہ کو اجازت دی ،جو چاہے اپنی جان و ایمان کے بچائو کے لئے حبشہ چلے جائیں۔ اعلان نبوت کے ۵ ؍ سال بعد، رجب کے مہینے میں آپ کی اجازت کے بعد ایک چھوٹا سا قافلہ ۱۲؍ مرد اور ۴؍ عورتوں کا، رات کی تاریکی میں نکلا اور بندرگاہ شعیبہ سے جہاز میں سوار ہو کر حبشہ روانہ ہوگیا۔ اس مختصر قافلہ میں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی اور آپ کی شہزادی سیدہ رقیہ بھی ساتھ تھیں۔ اس کے بعد دوسرا قافلہ جو، ۸۳؍ مرد اور ۱۸؍ عورتوں پر مشتمل تھا، مکہ سے حبشہ کے لئے روانہ ہوا۔ جس میں آپ کے چچا زاد بھائی جعفر طیار بھی تھے۔ کفار قریش نے سمندر تک پیچھا کیا۔ مگر یہ قافلہ کشتیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو چکا تھا۔
مکہ کے کافر تحفہ لے کر حبشہ کے بادشاہ کے پاس پہنچے، جس کا نام اصمحہ اور لقب نجاشی تھا۔ عیسائی دین کا پیروکار تھا، انصاف پسند اور رحم دل تھا، آسمانی کتابوں کا ماہر تھا۔
ان سے کہا کچھ لوگ ہمارے ملک سے بھاگ کر آئے ہیں۔ ہمارے سپرد کر دیا جائے، مسلمان دربار میں بلائے گئے، کفار کی طرف سے عمر و بن عاص اور عمارہ بن ولید سفیر بن کر بادشاہ حبشہ کے پاس پہنچے، اور مسلمانوں کی طرف سےحضرت جعفر طیار نمائندہ بن کر دربار شاہی میں تقریر شروع کی۔ اے بادشاہ! ہم شرک و بت پرستی میں تھے ،بدکاریوں بد اعمالیوں میں مبتلا تھے، اللہ نے ہماری قوم میں ایک کو رسول بنا کر بھیجا۔ جس نے ہمیں شرک و بت پرستی سے روکا ۔آپ نے سورہ مریم کی تلاوت کی، جس کا اثر بادشاہ پر ہوا، بادشاہ رونے لگا اور کہا محمد تو وہی رسول ہیں۔ جن کی خبر یسوع مسیح نے دی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اس رسول کا زمانہ ملا، پھر بادشاہ نے مکہ کے کافروں کو دربار سے نکلوا دیا۔