طہارت

طہارت

وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُاْ (پارہ ۶، رکور۶)
ترجمہ: اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو۔
برادران اسلام طہارت ضروری ہے اس کے بغیر ہم نماز ادا نہیں کر سکتے قرآن کو چھو نہیں سکتے قرآن مقدس میں مختلف جگہ طہارت کے تعلق سے آیت نازل ہوئی ہے پاک اور صاف ستھرا رہنے والوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ دوست رکھتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرین بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک و صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں الطہور نصف الایمان یعنی پاکیزگی نصف ایمان ہے ایک اور حدیث شریف میں ہے نبی الدین علی النظافۃ یعنی دین کی بنیاد پاکیزگی اور طہارت پر ہے۔
سورہ مائدہ میں ہے اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منھ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ۔
سورہ نساء میں ہے اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو تو اپنے منھ اور ہاتھوں کا مسح کرو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
پیارے دینی بھائیوں پاکیزگی اور طہارت سے بیماری نہیں ہوتی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو پسند بھی ہے مسلمانوں کو ہمیشہ باطہارت اور باوضو رہنا چاہیے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ بہترین وضو شیطان کو دور بھگا دیتا ہے۔
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مومن بندہ وضو کرتا ہے پس چہرہ دھوتا ہے تو تمام گناہ جن کا تعلق آنکھوں کے ساتھ دیکھنے سے ہے پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جو ہاتھ سے تعلق رکھتے ہیں جب پاؤں دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جو پاؤں سے تعلق رکھتے ہیں پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو جاتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ باوضو رہیں اس میں رب کی خوشنودی ہے جسمانی اور روحانی پاکیزگی بھی۔