طلاق

طلاق

وَاِذَاعَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعِضُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْ بِالْمَعْرُوْفِ ذٰلِکَ یُوْعِظُ بِہِ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذٰلِکُمْ اَذْکٰی لَکُمْ وَ اَطْہَرَ وَاللّٰہُ یَعَلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: اور جب عورتوں کو طلاق دو ان کی میعاد پوری ہو جائے تو اے عورتوں والیو انہیں شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہو جائیں یہ اس کی نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا اور تم نہیں جانتے۔
برادران اسلام میاں بیوی کے رشتے کو نکاح کے ذریعہ قائم کیا جاتا ہے اور طلاق کے ذریعہ اس نکاح کو ختم کر دیا جاتا ہے شرع نے حالت مجبوری میں طلاق دینے کو جائز قرار دیا ہے جب دو زندگی آپس میں نہ بنتی ہو اور جدائی کے علاوہ چارہ نہیں تو ایسی حالت میں طلاق کے ذریعہ علیحدگی اختیار کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ معمولی سی بات پر طلاق دے دی جائے سید نا حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا اے معاذ روئے زمین پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک غلام آزاد کرنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں اور روئے زمین پر طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں۔
سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تمام حلال چیزوں میں اللہ عز و جل شانہ کے نزدیک طلاق ہے۔
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فخر موجودات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق ایک ساتھ دیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ سن کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کرتا ہے حالانکہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہو۔
پیارے دینی بھائیو! حتی الامکان طلاق سے پرہیز کرنا چاہیے اگر دینا ہی ہو تو تین طہر میں تین طلاق دیں۔