طائف کا محاصرہ
حنین سے بھاگ کر کچھ کافر طائف میں پناہ گزیں ہوگئے۔ طائف محفوظ شہر تھا ۔شہر کی دیواریں مضبوط تھیں ،یہاں ایک مضبوط قلعہ بھی تھا اس کا مالک ابوسفیان کا داماد عروہ بن مسعود تھا ۔کفار کی تمام فوجیں سال بھر کا راشن لے کر قلعہ میں پناہ گزیں،ہوگئیں ۔آپ نے طائف پہونچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا کفار اوپر سے تیر کی بارش کرتے اسلامی فوج کو پسپا ہونا پڑتا تھا۔
۱۸؍ دن تک قلعہ کا محاصرہ جاری رہا ،مگر فتح نہ ہوسکا ،آپ نے جنگ کے ماہرین سے مشورہ کیا تو حضرت نوفل بن معاویہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! لومڑی اپنے غار میں گھس گئی ہے۔ کوشش جاری رہی تو پکڑ لی جائے گی اور چھوڑ دی جائے تو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ سنکر آپ نے محاصرہ اٹھا لینے کا حکم دیا، طائف کے محاصرہ میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے اور ۱۲؍ صحابہ کرام شہید ہوئے۔
جنگ طائف میں دو ازواج مطہرات حضرت ام سلمہ اور حضرت زینب آپ کے ساتھ تھیں ۔محاصرہ کے دوران دونوں کے لئے الگ الگ خیمہ تھا ،ان دونوں خیموں کے درمیان آپ نماز پڑھا کرتے تھے۔ طائف کا محاصرہ ختم کرکے آپ جعرانہ تشریف لائے۔ یہاں کافی مال غنیمت تھا ۔جس میں ۲ ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں، کئی من چاندی اور چھ ہزار قیدی تھے۔
مال غنیمت صحابہ کرام میں تقسیم فرما دیا، بہت سےقیدی کو رہا کر دیا، اس کے بعد آپ نے جعرانہ سے ہی عمرہ کا ارادہ فرمایا، احرام باندھ کر مکہ شریف تشریف لے گئے ۔عمرہ ادا کرنے کے بعد ۸ھ ذی قعدہ کے مہینہ میں مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔
جب جعرانہ سے عمرہ کرکے مدینہ تشریف لے جارہے تھے، قبیلہ ثقیف کے سردار، ابوسفیان کے داماد رعروہ بن مسعود بخوشی آپ کے ہاتھ میں اسلام لے آئے۔