شہید کون ہے

شہید کون ہے
آپ تاریخ کا مطالعہ کرتے جائیے آپ کو ایسے ایسے ہزاروں واقعات ملیں گے کہ علمائے حق اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر حق بات کہے ہیں تیمور لنگ بادشاہ کا نام آپ نے سنا ہوگا ۔یہ ایک مشہور بادشاہ ہے بہت ہی ظالم اور جابر بادشاہ تھا جب کسی شہر کو فتح کرتا تو وہاں کے علماء کو بلا کر غلط قسم کو سوالات کرتا اور ان کے جوابوں کو بہانہ بنا کر انہیں شہید کریتا چنانچہ تیمور لنگ بادشاہ نے حلب شہر فتح کرلیا ، شہر میں قتل عام کرایا ، ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا ، بچوں کے سروں سے باپ کاسایہ اٹھ گیا ، بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں ، اس کے بعد تیمور لنگ بادشاہ نے تمام علماء کو اپنے دربار میں بلا کر سوال کیا کہ کل کی جنگ میں ہمارے اور تمہارے بہت سے آدمی قتل ہوئے ان میں ہمارے لوگ شہید ہیں یا تمہارے ؟ یہ سوال سن کر علماء گھبرا گئے مگر علامہ ابن شمنہ جواب دینے کے لئے کھڑے ہوگئے اور فرمایا سنو ! حدیث شریف میں ہے کہ ایک اعرابی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک شخص مال غنیمت کے لالچ میں جنگ کرتا ہے اور ایک شخص اپنی ناموری کے لئے جنگ کرتا ہے اور ایک شخص راہ خدا میں حق کے لئے لڑتا ہے تو ان میں شہید کون ہے ؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں جس نے خدا کی راہ میں حق بات کے لئے جنگ کی وہی شہید ہے ۔ اس حدیث کے مطابق کل کی جنگ میں جو لوگ خداکی راہ میں حق بات کے لئے لڑکر قتل ہوئے وہی شہید ہے ۔
بادشاہ تیمور لنگ اس حدیث پاک کو سن کر حیران ہو گیا اور بے ساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ بالکل سچ ہے ۔تمام درباری حیران رہ گئے کہ عالم ربانی حق بات کہنے میں کسی سے نہیں ڈرتے ہیںبلکہ حق بات کہ دیتے ہو وہ صرف خدا کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں اسلام کی عظمت اور حق بات کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دیتے ہیں