شراب نوشی

شراب نوشی
حاضرانِ مجلس!آپ اس دور کا جائزہ لیجئے اپنے معاشرہ کا بغور مطالعہ کیجئے ، نافذ کردہ قانون کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ شراب نوشی جرم ہے اشتہارات کے ذریعہ اس کے مضر اثرات کو بتائے جاتے ہیں ، پوسٹروں کے ذریعہ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ شراب نہ پئیں کہ صحت کے لئے مصر ہے لیکن شراب بیچنے والوں پر کوئی پابندی نہیں ، لائسنس نکال لیا گیا تو شراب بیچنا کوئی جرم نہیں تو میں پوچھنا چاہتا ہوں اس قانون ساز سے جو شراب لائسنس کے ذریعہ بیچی جاتی ہے کیا وہ صحت کے لئے مضر نہیں ؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں اس قانون ساز سے جو شراب لائسنس کے ذریعہ بیچی جاتی ہے کیا وہ شراب پینے کے بعد انسان اپنی عقل و ہوش کھو نہیں بیٹھتا ؟ میں پو چھنا چاہتا ہوں اس قانون ساز سے جو شراب لائسنس کے ذریعہ بیچی جاتی ہے کیا وہ شراب پینے کے بعد انسان بھلے اور بُرے کی تمیز کو فراموش نہیں کر دیتا ؟ اگر ایسا ہے تو اس قانون ساز کو سوچنا چاہیئے اپنے ذہن کے پردے کو وسیع کرنا چاہیے کہ جو شراب لائسنس لیکے فروخت کرے وہ بھی مجرم جو لائسنس کے بغیر فروخت کرے وہ بھی مجرم ، جو شراب پئیے وہ بھی مجرم اور جو شراب پلائے وہ بھی مجرم کیونکہ شراب آخر شراب ہے ۔
اگر آپ سچے دل سے معاشرہ سے شراب نوشی ختم کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی قانون کو اپنائیے شراب نوشی خود بخود ختم ہوجائے گی ۔ قرآن مقدس یوں ارشاد فرماتا ہے {یَسٰئلَونَکَ عَنِ الخَمْرِ والمَیْسر قُلْ فیِھماَ اثْم کَبِیْر } آپ سے لوگ جوا اور شراب نوشی کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے دونوں میں بہت بڑا جرم ہے ۔ اسلامی قانون کے مطابق شراب بنانا جرم ہے ، شراب بیچنا جرم ہے ، شراب کو ہاتھ لگانا جرم ہے ، شراب پینا جرم ہے ، شراب پلانا جرم ہے ، چھپ کے پئے تو جرم ہے ، دکھاکے پئے تو جرم ہے، اگر معاشرے سے برائی کو دور کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی قانون کو نافذ کرنا ہوگا یہی قانون ، قانون ِ الہی ہے جو ہر دور میں کارآمدثابت ہوگا ۔