شراب اور جوا

شراب اور جوا

یٰاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُواِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ و الاَنْصَابُ وَ الاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَائَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَمُدَّکُمْ عَنْ ذکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصّلوٰۃِ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: اے ایمان والوشرب ، بتوں اور تیروں سے فال نکالنا یہ سب ناپاکی ہیں شیطان کے کاموں میں سے ہیں ان سے بچو تاکہ فلاح پاؤ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کی وجہ سے تمہارے اندر عداوت اور بغض ڈالے اور تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔
برادران اسلام قرآن سے ثابت ہو گیا کہ شراب پینا حرام ہے کیونکہ اس سے بہت سے گناہ پیدا ہوتے ہیں حقیقت میں یہ برائیوں کی جڑ ہے اسی طرح سے جوا بھی حرام ہے آج لوگ اتنی محنت کی کمائی جوے میں خرچ کرتے ہیں اور افلاس میں مبتلا ہوتے ہیں لوگ سوچتے ہیں جوا کھیل کر امیر آدمی بن جائیں گے حقیقت یہ ہے کہ جوا سے امیر نہیں بلکہ مفلسی آتی ہے جوا کھیلنے والے حرام کام کے مرتکب ہوتے ہیں۔
حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ والی چیز حرام ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے عہد کیا ہے کہ جو شخص نشہ پئے گا اسے طنیتہ الجبال سے پلایا جائے گا لوگوں نے عرض کیا یا رسو اللہ ﷺ طنیۃ الجبال کیا چیز ہے آپ ﷺ نے فرمایا جہنمیوں کا پسینہ یا ان کا نچوڑ سیدنا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب پیے گا اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کر لے تو اللہ تبارک وتعالیٰ قبول فرمائے گا اس طرح روبہ کرتا رہے اور پیتا رے تو چار مرتبہ کے بعد اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا حضور پُر نور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے والدین کی نافرمانی کرنے والا جوا کھیلنے والا احسان جتانے والا اور شراب کی مداومت کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں شراب اور جوا سے دور رنا چاہیے ورنہ عذاب الہی میں گرفتار ہو جائیںگے۔