شادی کے وقت سیتا کی عمر ۶؍ سال

شادی کے وقت سیتا کی عمر ۶؍ سال
شریمدوالمیکی رامائن، سرگ نمبر ۴۷، صفحہ نمبر ۴۴۹، مطبوعہ گیتا پریس گورکھپور۔
سیتا اپنا تعارف راون سے کراتے ہوئے کہتی ہیں کہ
’’اے برہمن! آپ کا بھلا ہو، میں متھلا کے راجا مہاتما جنک کی بیٹی اور اودھ کے راجا شری رام چندر کی پیاری ملکہ ہوں، میرا نام سیتا ہے، شادی کے بعد بارہ برس تک ایشوا کونشی کے مہاراج دشرت کے محل میں رہ کر میں نے اپنے شوہر کے ساتھ سبھی انسانی خواہشات پورے کئے ہیں۔ مجھے ہمیشہ وہ عیش و آرام میسر رہے جن کی کسی انسان کو خواہش ہو سکتی ہے۔ تیرہویں سال کے شروعات میں طاقتور مہاراج دشرت نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا اور شری رام چندر جی کو ولی عہد کے درجہ پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت میرے نامدار شوہر کی عمر پچیس سال سے اوپر تھی اور میری پیدائش سے لے کر جنگل کی جانب کوچ کرنے کے وقت تک میری عمر سالوں کی گنتی کے لحاظ سے اٹھارہ برس ہو گئی تھی۔‘‘
قارئین! اس سے معلوم ہوگیا کہ جس وقت سیتا اور رام کی شادی ہوئی تھی اس وقت سیتا کی عمر چھ سال تھی اور چھ سال کی عمر میں ہی اپنے سسرال آ گئی تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھیں۔
اب ملعون وسیم رضوی جواب دے کہ چھ سال کی عمر کی سیتا کے ساتھ شادی کرنے کی وجہ سے کیا رام پیڈوفیلک ہیں؟ اگر ملعون وسیم رضوی نے ماں کا دودھ پیا ہے تو رام کو پیڈوفیلک لکھ کر یا کہہ کر بتائے۔ وہ ایسا کبھی نہیں بول سکتا اور نہ ہی لکھ سکتا ہے۔ اور کسی کے بارے میں ایسا لکھنا بھی نہیں چاہئے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا مذہب اور اپنا اپنا مذہبی دستور ہوتا ہے۔ پھر بھی اس نے حضور ﷺ پرپیڈوفیلیا کا الزام لگایا۔ جن کو پوری دنیا نے عظیم تسلیم کیا ہے۔ کیا ملعون وسیم رضوی حضور ﷺ پر پیڈوفیلیا کا الزام لگانے کی وجہ سے مجرم نہیں ہے؟ کیا ملعون وسیم رضوی اور اس جیسے لوگ جو کسی بھی مذہبی رہنما کی توہین کرتے ہیں ان کو سزا نہیں ملنی چاہئے؟ کوئی بھی انصاف پسند انسان ایسے لوگوں کو سزا دلانے کی ہی بات کرے گا۔
ڈاکٹر محمد احمد نعیمی اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ‘‘ جلد دوم صفحہ ۵۴۴ پر وسشٹھ اسمرتی کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔
وسشٹھ اسمرتی ادھیان ۱۷؍ سلوک، ۶، ۱۲
’’ماں باپ کی لاپرواہی سے شادی سے پہلے ہی لڑکی کو اگر ماہواری شروع ہو جاتی ہے تو اس لڑکی سے شادی کرنے والے کو دیکھنے سے ہی پاپ لگتا ہے، وہ صرف نظر سے ہی ہلاک کر دیتا ہے۔ اس لئے اس کی ماہواری آنے سے قبل ہی لڑکی کی شادی کردیں ایسا نہ کرنے پر ماں باپ کو گناہ ہوتا ہے۔ ‘‘
آگے ڈاکٹر صاحب اسمرتی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔
’’آٹھ سال کی لڑکی کی شادی سب سے بہتر ہے دس سال سے پہلے لڑکی کی شادی نہ کرنے والے ماں باپ اور بھائی نرک میں جاتے ہیں۔‘‘
گوتم دھرم سوتر میں کہا گیا ہے۔
’’ماہواری شروع ہونے سے قبل ہی لڑکی کی شادی کر دینی چاہئے جو ایسا نہیں کرتا ہو وہ پاپی ہے۔‘‘
سوامی دیانند سرسوتی اپنی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ سملاس چوتھا، شلوک نمبر ۱۴، صفحہ ۱۰۵ پر لکھتا ہے کہ
’’ ارتھ یہ ہے کہ لڑکی کا آٹھویں برس گوری، نویں برس روہنی، دسویں برس کنیا اور اس کے بعد رجلا (حیض والی) نام ہوتا ہے دسویں برس تک بیاہ نہ کرکے رجلا لڑکی کو ماں باپ اور اس کا بڑا بھائی تینوں دیکھ کر نرک میں گرتے ہیں۔‘‘
منو دھرم شاشتر باب ۹، صفحہ ۲۱۵، شلوک ۸۸، مطبوعہ نگارشات پبلشرز مزنگ روڈ لاہور
’’خواہ بیٹی ابھی عمر کو نہ پہنچی ہو، باپ کو چاہئے کہ ممتاز، خوبصورت اور برابر ذات کا رشتہ آنے کی صورت میں قبول کرے۔‘‘
منو دھرم شاشتر باب ۹، صفحہ ۲۱۶ ،شلوک ۹۴، مطبوعہ نگارشات پبلشرز مزنگ روڈ لاہور
’’تیس سال کا مرد بارہ سالہ کنیا سے شادی کرے گا جو اسے خوش رکھ سکے یا چوبیس برس کا مرد آٹھ سالہ لڑکی سے، اگر دوسرے فرائض کی ادائیگی میں حائل نہ ہو تو اسے شادی کرنی چاہئے۔‘‘
مذکورہ بالا حوالوں اشلوکوں سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ مذہبی اعتبار سے لڑکی کی شادی کم سنی میں کر دینی چاہئے۔
محترم قارئین! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ کم سنی کی شادی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر جو انگلی اُٹھاتا ہے وہ مستشرقین ہوں یا ملعون وسیم رضوی، ان کی جہالت اور کم علمی پر مبنی ہے۔ جو اس شادی پر تنقید کرے وہ نرا جاہل ہے۔
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۶۰ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد نے ۱۲؍ شادیاں کیں۔‘‘
یہی شادیوں کی بنیاد پر ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۴۰ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد صاحب کو تو سوپرمین آف سیکس تک کہہ دیتے ہیں اور یورپ کے اسکالر محمد صاحب کو بے جا اور لامحدود ہوس کی وجہ سے ان کو سیکس ڈومین یعنی شیطانی ہوس کہتے ہیں۔‘‘
یہ ہے ملعون وسیم رضوی کی بکواس کہ حضور اقدس ﷺ کو ان کی ۱۲؍ شادیوں کی وجہ سے اس طرح کے نا قابل برداشت و نازیبا کلمات کہے ہیں۔ یہ ملعون وسیم رضوی مستشرقین اور یہودیوں کا واویلا ہے جو صرف اور صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ناموس کو داغدار کرنے کی ناپاک سازش ہے۔ آئیے کثرت ازدواج کے تعلق سے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تا کہ دشمنوں کی زبان پر تالا لگ جائے اور ملعون وسیم رضوی کا مکروہ چہرہ سامنے آجائے۔
حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ والتسلیم جو یہودیوں کےنبی ہیں اور تمام مسلمانوں کا آپ پر ایمان ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں ان کی کثرت ازدواج کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔
طبقات ابن سعد، جلد ۸، صفحہ ۲۸۳
حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک ہزار بیویاں تھیں، سات سو آزاد اور تین سو لونڈیاں۔ حضرت دائود علیہ السلام یہ بھی یہودیوں کے نبی ہیں اور تمام مسلمانوں کا آپ پر ایمان ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں ان کی بھی کثرت ازدواج ملاحظہ فرمائیں۔
طبقات ابن سعد جلد ۸، صفحہ ۲۸۳
حضرت دائود علیہ السلام کی سو بیویاں تھیں، ان میں ام سلیمان اوریا کی عورت بھی تھیں آپ نے ان سے آزمائش میں پڑنے کے بعد نکاح کیا۔
قاضی سلیمان سلمان منصور پوری اپنی کتاب رحمۃ للعالمین جلد دوم، صفحہ ۱۲۹ پر لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی چار بیویاں تھیں۔
ایک سے زیادہ شادی کرنے اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت صرف اسلام کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہندو دھرم میں بھی اس کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ اس کی مثالیں ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی ملتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ‘‘ جلد دوم، صفحہ نمبر ۵۸۷ پر لکھتے ہیں کہ منو مہاراج اصول و ضوابط دیتے ہیں کہ
’’ اگر عورت بانجھ ہو، آٹھویں سال میں اولاد زندہ نہ رہتی ہو، دسویں سال میں صرف لڑکی ہو اور گیارہویں سال میں بے اولاد ہو تو جلد ہی دوسری شادی کر لینی چاہئے۔ ‘‘
ڈاکٹر صاحب آگے لکھتے ہیں۔
’’کئی بیویاں رکھنا پاپ نہیں لیکن عورتوں کے لئے پہلے شوہر کے واسطے اپنا فرض نہ نبھانا پاپ ہے۔‘‘
اس طرح ہندو محقق و عالم چندیشور نے اپنے گرہستھ رتناکر میں دیول رشی کے حوالے سے لکھا ہے کہ شودر ایک سے، ویش دو سے، چھتری تین سے، برہمن چار سے اور راجا جتنی چاہے اتنی عورتوں سے شادی کرسکتا ہے۔