سبق آموزحکایت
برادران ملت اسلامیہ! ایک مرتبہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے غلام کے ساتھ دوسرے ملک کی طرف سفر کئے ، غلام نے عرض کیا اے میرے آقا میں آپ کا غلام ہوں آپ اونٹ پر بیٹھئے میںنکیل پکڑ کر آگے چلتا ہوں ۔ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا میںما نتا ہوں کہ تو میرا غلام ہے لیکن تو بھی انسان ہے تیرے اندر بھی روح ہے ، تجھ کو بھی راحت و مشقت کا احساس ہوتا ہے ، لہذا انصاف یہی ہے کہ کبھی اونٹ پر تم بیٹھو اور میں پیدل چلوں اور کبھی تم پیدل چلو میں اونٹ پر بیٹھوں ۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ ایک میل پیدل مالک چلے اور ایک میل پیدل غلام چلے بالآخر جس شہر میں جانا تھا جب وہ قریب آگیا تو فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باری پیدل چلنے کی آئی اور غلام کی باری اونٹ پر بیٹھنے کی آئی ۔ غلام حیران ہو گیا اور عرض کرنے لگا حضور شہر قریب آگیا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خلیفہ وقت اونٹ کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلے اور غلام اونٹ پر سوار ہو کر لیکن فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گرجدار آواز میںکہا جو میں نے فیصلہ کردیا ہے وہ ہو کر رہے گا غلام اور آقا نہیں دیکھا جائے گابلکہ انصاف دیکھا جائے گا آخر جب شہر میں پہونچے تو شہر والوں نے غلام کو خلیفہ وقت سمجھا اس کو عزت کے ساتھ اونٹ سے اتارنے لگے ۔ غلام چلا کر کہا میں خلیفہ نہیں میں تو غلام ہوںخلیفہ یہ ہیں اور غلام نے سارا واقعہ سنایا سب تعجب میں پڑ گئے اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انصاف دیکھ کر حیران ہوگئے ۔
دیکھا آپ نے جو انصاف مذہب اسلام میں ہے کسی اور مذہب میں نہیں مل سکتا اسی لئے قانون اسلام تمام قانون پر حاوی ہے قانون اسلام تمام قانون سے افضل ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سبھوں کو قانونِ اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Post Views: 26