زہریلا بیان

زہریلا بیان
اپنے قول میں ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے چند مثالیں پیش کرتا ہوں قارئین کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کی تحریروں سے انصاف پسند لوگوں کے دلوں کو تکلیف ہوگی کہ نہیں۔
 ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب میں لکھتا ہے۔
(۱) محمد ایک لٹیرے گروہ کے سردار تھے۔ (صفحہ 9)  معاذ اللہ
(۲) خدیجہ کو جنسی تعلق کے لئے ایک جوان لڑکا مل گیا تھا۔
(صفحہ 24)  معاذ اللہ
(۳) خدیجہ محمد سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی تھی۔
(صفحہ 25)، معاذ اللہ
 (۴) محمد تشدد، غارت گری، زنا کاری، قتل عام پر بھروسہ کرتے تھے۔
(صفحہ 34) معاذ اللہ
(۵) محمد اتنے شاطر تھے کہ انہوں نے غارت گری، عورتوں کے ساتھ جنسی
تعلقات اور قتل کو اللہ کے نام پر بھلائی سے جوڑ دیا۔ (صفحہ 52) معاذ اللہ
(۶) محمد نے اسلامی جنگ میں ملی مال غنیمت کے نام پر خوبصورت عورتوں کے
ساتھ بھر پور جنسی تعلق قائم کیا۔ (صفحہ 59) معاذ اللہ۔
(۷) محمد کوعائشہ کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے میں بہت لطف آتا تھا۔
(صفحہ 61) معاذ اللہ
(۸) وصال کے وقت محمد نے کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ (صفحہ 62) معاذ اللہ
(۹) محمد کی موت کثرت مجامعت سے ہوئی تھی۔ (صفحہ 62) معاذ اللہ
(۱۰) نبی کا وصال ہوا تو ان کا جسم اکڑ گیا تھا۔ (صفحہ 63) معاذ اللہ
(۱۱) محمد نے کئی گھنائونے جرائم کئے سب سے زیادہ شرم ناک ۹؍ سالہ لڑکی کے
ساتھ جنسی زیادتی کا تعلق تھا۔ (صفحہ 69) معاذ اللہ
(۱۲) محمد نے اونٹ کا پیشاب پیا۔ (صفحہ 71) معاذ اللہ
(۱۳) محمد کو ان (ابوبکر صدیق) کی معصوم بچی کی عصمت دری کرنی پڑی۔
(صفحہ 73) معاذ اللہ
(۱۴) محمد صاحب اپنی ہوس کی تکمیل کے لئے قرآن کا سہارا لے کر ایسی عورتوں
کے ساتھ ہمبستری کرنے کو درست بتاتے تھے۔ (صفحہ 74) معاذ اللہ
(۱۵) محمد صاحب نے قرآن کی آڑ میں اپنی ہوس پوری کی تھی۔
(صفحہ 75) معاذ اللہ
(۱۶) محمدصاحب کی ہوس کا نشانہ بننے والی پہلی خاتون کا نام خولہ بنت حکیم
السلیمیہ تھا (صفحہ 75) معاذاللہ
(۱۷) حقیقت میں محمد صاحب ام ہانی کے ساتھ زنا کرنے گئے تھے۔
(صفحہ 77) معاذ اللہ
(۱۸) قرآنی تعلیم کی وجہ سے ہر جگہ زنا اور عصمت دری ہو رہی ہے۔
(صفحہ 80) معاذ اللہ
(۱۹) عائشہ بے شرم ہو کر محمد کے ساتھیوں کو جنسی تعلیم دیتی تھی۔
(صفحہ 81) معاذ اللہ
(۲۰) رسول نے اس آیت میں عورت کے ساتھ اس کے مقعد میں ہمبستری کی
اجازت دے دی ہے اور اغلام بازی کو حلال بتایا ہے۔ (صفحہ 85) معاذ اللہ
(۲۱) ماں سے شادی کرنا یا ایسی عورت سے شادی کرنا جو پہلے سے شادی شدہ
ہو اسلام کے مطابق حلال ہے۔ (صفحہ 87) معاذ اللہ
(۲۲) عصمت دری کرنا اور کرانا یہی اسلام ہے۔ (صفحہ 91) معاذ اللہ
(۲۳) مسلمان جتنا بڑا ہوگا اتنا ہی بدکرداری بڑھے گی۔ (صفحہ 91) معاذ اللہ
(۲۴) اسلام جو محمد کے ذریعے لایا گیا ہے وہ ایک ذہنی مریض، فرضی سوچ،
مغرور اور عیاش شخص کی پیداوار ہے۔ (صفحہ 102) معاذ اللہ
(۲۵) جب محمد نے زینب کو نیم برہنہ دیکھا تو اس کی نیت خراب ہوگئی۔
(صفحہ 103) معاذ اللہ
(۲۶) محمد عیاشی کے دوران نشہ کا بھی استعمال کرتے تھے۔ (صفحہ 107) معاذ اللہ
(۲۷) محمد ذہنی بیمار اور عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق کرکے لطف لینے والے شخص
تھے۔ (صفحہ 107) معاذ اللہ
(۲۸) حقیقت تو یہ ہے کہ محمد کا کوئی کردار نہیں تھا۔ (صفحہ 128) معاذ اللہ
(۲۹) محمد کو بچپن میں مرگی کا دورہ پڑتا تھا۔ (صفحہ 128) معاذ اللہ
(۳۰) دنیا کا سب سے پہلا دہشت گرد صرف محمد تھا۔ (صفحہ 128) معاذ اللہ
(۳۱) حدیث کے مطابق محمد دیکھنے میں بدصورت تھے۔ (صفحہ 129) معاذ اللہ
(۳۲) عورتیں محمد سے نفرت کرتی تھیں شاید اسی لئے وہ خواتین کی عصمت دری
کرتے تھے۔ (صفحہ 129) معاذ اللہ
(۳۳) مسلمان محمد کو رسول اور عظیم انسان کہتے رہیں لیکن در حقیقت وہ ایک ظالم
عصمت دری کرنے والا شخص تھا۔ (صفحہ 131) معاذ اللہ
(۳۴) محمد فطری موت نہیں مرا اسے زہر دیا گیا تھا۔ (صفحہ 131) معاذ اللہ
(۳۵) محمد نے کنانہ بن الربیع کو قتل کر دیا اور اس کی بیوی صفیہ سے زبردستی شادی
کرلی تھی۔ (صفحہ 132) معاذ اللہ
(۳۶) مسلم عورتیں بچہ پیدا کرکے اپنی اندام نہانی اتنی ڈھیلی کر لیتی ہیں کہ اس کا
شوہر اس اندام نہانی میں سر ڈال کر اندر دیکھ سکتا ہے۔ (صفحہ 137) معاذ اللہ
(۳۷) اسلام کو سچا مذہب کہنا تو دور کی بات یہ مذہب کہلانے کے قابل نہیں ہے۔
(صفحہ 139) معاذ اللہ
(۳۸) جنسی تعلق کے معاملے میں بھی محمد صاحب کو سوپرمین آف سیکس تک کہہ دیتے ہیں۔
(صفحہ 140) معاذ اللہ
(۳۹) رسول رات دن مسلسل اپنی عورتوں سے ہمبستری کرتے تھے۔
(صفحہ 140) معاذ اللہ
(۴۰) محمد صاحب ڈھیلی چھاتی والی اپنی عورتوں سے بےرغبت ہوگئے ہوں گے۔
  (صفحہ 141) معاذ اللہ
(۴۱) محمد اور ان کے عیاش ساتھیوں کی نظر ہوازن قبیلے کی عورتوں پر تھی۔
(صفحہ 143) معاذ اللہ
(۴۲) عورتوںکو گرفتار کرکے اجتماعی عصمت دری کے لئے محمد کا ایک مذموم
منصوبہ تھا۔ (صفحہ 146) معاذ اللہ
قارئین! ملعون وسیم رضوی کے قلم سے نکلے ہوئے مذکورہ بالا زہریلے جملوں سے آپ اندازہ لگائیں کہ ایک ایک جملہ دل کو کس قدر مجروح کرنے والا ہے!! مسلمانوں کے علاوہ ہر انصاف پسند انسان انسانیت کا دل رکھنے والا یہ بر ملا کہے گا کہ یہ جملے انتہائی نازیبا اور نا قابل برداشت ہیں دنیا کا کوئی بھی انصاف پسند، منصف اور جج یہی کہے گا کہ ایسے جملے لکھنے والا مجرم اور سزا کا مستحق ہے۔ ایسا شخص سماج اور اعلیٰ معاشرہ کے لئے ایک ناسور ہے جس سے نفرت و عداوت کی آگ تو پھیل سکتی ہے محبت و اخوت کی نہیں۔ ایسی کتاب دو مذاہب کے درمیان دراڑ ڈال سکتی ہے، امن و شانتی کے ماحول کو خراب کر سکتی ہے۔