زمین
اَلَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ نِرَاشًا وَّ السَّمَآئَ بِنَائً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّکُمْ فَلَا تَجْعَلُواْ لِلّٰہِ اَنْدَادً وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (پارہ۱، رکوع۳)
ترجمہ: اور جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو تو اللہ کے لیے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ۔
برادران اسلام اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن مقدس کی متعدد جگہ میں زمین کا ذکر فرمایا ہے زمین جس پر ہم اپنی زندگی گزارتے ہیں کافی اہمیت کی حامل ہے سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے ’’وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا آسمان کی چھت بنائی اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ ہر طرح کی پیداوار نکال کر رزق ہم تک پہنچایا پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ‘‘ سورہ بقرہ ہی میں دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے ’’جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی ساخت رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آتے ہے‘‘ سورہ رعد میں ہے ’’اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں‘‘ سورہ حجر میں ہے ’’ہم نے زمین کو پھیلایا اس میں پہاڑ جمائے اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی اور اس میں معشیت کے اسباب فراہم کیے۔‘‘
سورہ طٰہٰ میں ہے ’’وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا اور اس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے اور اوپر سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی‘‘ سورہ نمل میں فرمان الٰہی ہے ’’اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں میخیں گاڑ دیں‘‘ سورہ ملک میں ہے ’’وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع کر رکھا ہے اس کی چھاتی پر چلو پھرو اور خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اسی کے سامنے دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے‘‘ سورہ نازعات میں ہے ’’اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا اسی کے اندر اس کا پانی اور چارا نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامان زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔‘‘
پیارے دینی بھائیو! اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں زمین عطا فرمائی اور اس کے فوائد بتاتے ہوئے استعمال کا طریقہ بتایا۔