ریاکاری
یُرآؤُنَ النَّاسَ وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلَا پارہ۵، رکوع۱۸)
ترجمہ: لوگ دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
برادران اسلام ہمیں چاہیے کہ جو کام بھی کریں دکھاوے کے لیے نہ کریں کیونکہ ریاکاری حرام ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے سخت وعید آئی ہے اور ریاکار کے لیے سخت عذاب ہے ریا والی عبادت سے کوئی ثواب حاصل نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب لوگوں کو دکھانے کے لیے کیے جاتے ہیں عبادت میں ثواب اسی وقت ملتا ہے جب صرف خداوند قدوس کو راضی کرنے کے لیے کی جائے لہذا کوئی بھی کام لوگوں کو دکھانے کے لیے نہ کریں۔
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا وہ تمہارے دل اور تمہارے اعمال کی طرف نظر کرا ہے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ امام المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا جو سنانے کے لیے کام کرے گا اللہ عزو جل شانہ اس کو سنائے گا اور جو ریا کرے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ریا کاری کی سزا دے گا۔
حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں ایک شخص تھا جب اس کو رونا آتا تو وہ اپنا منھ ڈھانپ لیتا تھا تاکہ لوگ اس کو نہ پہچانیں یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ تنہائی میں خوفِ خدا سے رونا لوگوں کے سامنے رونے سے بہتر ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے پیارے دینی بھائیو اپنی تعریف اور مدح کی خواہش کو قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کے لیے چھوڑ دو کیونکہ قیامت کے دن میدانِ حشر میں اس طرح منادی کی جائے گی اے ریاکار! اے فاسق! اے گمراہ! تجھے شرم نہ آئی کہ تو نے خدا کی عبادت کو ملوق کی تعریف کے عوض بیچ ڈالا اور ان بے دلوں کو راضی کر لیا لیکن تجھے اپنے رب کی رضا مندی کا خیال نہ آیا تو مخلوق کی تعریف حاصل کرنے کے لیے تو اس پر راضی ہو گیا کہ اللہ عز و جل شانہ تیری مذمت کرے تو نے مخلوق کی رضامندی تلاش کی لیکن خالق کی ناراضگی سے نہیں ڈرا۔
ہمیں چاہیے کہ ہر عبادت اور نیک کام اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کریں چاہے کوئی راضی ہو چاہے کوئی خوش ہو اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے اگر اللہ تبارک و تعالیٰ راضی ہو جائے تو سب سے بڑی دولت حاصل ہو گئی۔