رسول پر ہمیشہ درود پڑھا جائیگا
آپ یہ نہ سمجھیں کہ رسول ہمارے درود کے محتاج ہیں ، آپ یہ نہ سمجھیں کہ رسول کو ہمارے درود کی حاجت ہے رسول پر اس وقت درود بھیجا جارہا تھا جب آپ کا وجود نہ تھا ۔جب ہمارا وجود نہ تھا ،رسول پر اس وقت درود بھیجا جارہا تھا جب شمس وقمر کا وجود نہ تھا ،رسول پر اس وقت درود پیش کیا جاتا تھا جب لوح وقلم کا وجود نہ تھا، رسول پر اس وقت درود بھیجا جاتا تھا جب دنیا کا وجود نہ تھا ،ر سول پر اس وقت درود کانذرانہ پیش کیا جائے گا جب آپ کا وجود نہ ہوگا ،ر سول پر اس وقت درود شریف پڑھا جائے گا جب ہمارا وجود نہیں ہوگا ،رسول پر اس وقت درود بھیجاجائے گا جب چاند و سورج کا وجود نہیں رہے گا ، رر سول پر اس وقت درود شریف پڑھا جائے گا جب زمین و آسمان کا وجود نہیں رہے گا ، رسول پر اس وقت درود شریف پڑھا جائے گا جب جب کسی فرشتے کا وجود باقی نہ رہے گا ، ر سول پر اس وقت درود شریف پڑھا جائے گا جب ساری دنیا فنا ہو جائے گی، {و یبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام } دنیا کی چیز فنا ہو جائے گی لیکن اللہ کا وجود باقی رہے گا اور درود پڑھنے والا خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہے {ان اللّٰہ و ملٰئکتہ یصلون علی النبی} بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پیارے بنی پر درود پڑھتے ہیں برادران ملت ہمیں بھی کشرت سے درود پڑھنا چاہئیے۔
Post Views: 30