رزق کی تلاش

رزق کی تلاش

وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَابَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقُہَا اللّٰہُ یَرْزُقُہَا وَ اِیَّاکُم (پارہ۲۱، رکوع۲)
ترجمہ: اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں۔
برادران اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے امیر و غریب شاہ و گدا گورے کالے مومن و کافر ہر ایک کو اپنے فضل و کرم سے روزی عطا فرماتا ہے ہمیں رزق حلال تلاش کرنا ہے ضرور ہمیں روزی ملے گی سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ عز و جل شانہ پر بھروسہ کرو تو اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں ایسے روزی دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو کھا پی کر واپس آتے ہیں۔
رزق حلال تلاش کرنا بھی عبادت ہے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسب حلال سے اولاد کی کفالت کرنا راہ دین میں جہاد کرنا ہے اور بہت سی عبادات سے افضل ہے ایک دن حضور سید الانبیاء ﷺ تشریف فرما تھے صبح سویرے ایک قوی جوان ادھر سے گزرا اور ایک دکان میں چلا گیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرمایا افسوس اس قدر سویرے راہ خدا میں اٹھا ہوتا سرورِ کائنات ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کہو کیونکہ اگر وہ اپنے آپ کو اپنے ماں باپ یا اپنی اولاد کو لوگوں سے بے پرواہ کرنے کے لیے جاتا ہے (یعنی دوسروں کی محتاجی سے بچانے کے لیے) تو بھی وہ خدا کی راہ میں ہے اور اگر فخر لاف زنی اور مالداری کے لیے جاتا ہے تو شیطان کی راہ میں ہے۔
قیامت کے روز جس طرح دوسرے فرائض کو پورا کرنے کے بارے میں سوال ہوگا کہ کس حد تک اس نے فرض عین کو پورا کرنے پر توجہ دی اسی طرح روزی کے متعلق بھی سوال ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا روزی کا حلال ذریعہ تلاش کرنا فرض کے بعد فرض عین ہے۔
مسلمان بھائیو کو چاہیے کہ اپنے کنبہ کی پرورش کے لیے رزق تلاش کریں جہاں تک ہوسکے کسی کا محتاج بن کر نہ رہیں آج کل مشاہدہ میں آتا ہے کہ بالکل درست اور جوان ہونے کے باوجود گداگری کرتے ہیں یہ بالکل جائز نہیں ہم روزی تلاش کریں ہمارا رازق ضرور ہمیں رزق عطا فرمائے گا۔