دیوبندی کی توبہ قبول نہیں

دیوبندی کی توبہ قبول نہیں
نجدی اس نے تجھ کو مہلت دی کہ اس عالم میں
کافر ومرتد پہ بھی  رحمت  رسول  اللہ  کی  !
برادران اسلام تمام فقہائے کرام اور علماء عظام اس بات پر متفق ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں تا آنکہ تجدید ایمان کرے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ گستاخ رسول کو سزائے قتل دی جائے مگرتجدیدایمان اور حسن اسلام لائے تو اس کی توبہ قبول ہے جس نے بھی توہین کی اس کی توبہ بارگاہ الہیٰ میں قبول نہیں کی جاتی ۔ بدمذہب  توہین رسول میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ اس کی توبہ ہرگز ہر گز بارگاہ الہی میں قبول نہیں جب تک دوبارہ ایمان نہ لائے جیسا کہ مجمع الانہر شرح متلقی الابحر جلد اول صفحہ ۶۱۸ {اذا سبۃ صلی اللہ علیہ وسلم اوواحد من الانبیاء مسلم ولوا سکران فلا توبۃ لہ کالزندیق ومن شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر } جو مسلمان کہلا کر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے یا حضور صلی اللہ وعلیہ سلم کی شان میں گستاخی کرے اگرچہ نشے کی حالت میں ہوتو اس کی توبہ پر دنیا والے معافی نہ دیں گے جیسے دہریہ بے دین کی توبہ نہ سنی جائے گی ۔ جو شخص اس گستاخی کرنے والے کے کفر میں شک کریگا وہ بھی کافر ہو جائے گا ۔
در مختار میں ہے کسی نبی کی توہین کرنا ایسا کفر ہے جس پر کسی طرح کی معافی نہ دیں گے اور جو اس کے کافر اور عذاب ہونے میں شک کرے گا خود کافر ہے ۔