دیوبندی اور سوال قبر
اب پھولے نہ سمائیں گے کفن میں آسیؔ
ہے شب گورہی اس گل سے ملاقات کی رات
برادران اسلام !سوال قبر برحق ہے اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے جب انسان اس دار فانی سے کوچ کرتا ہے اور اس کی روح نکال جاتی ہے جب لوگ دفن کرکے لوٹتے ہیں ۔ مردہ لوٹنے والوں کے پیر کی آواز سنتا ہے اس وقت منکر نکیر دو فرشتے سوال کے لئے تشریف لاتے ہیں ،ڈراونی شکل ہوتی ہے ، بدن کالا آنکھیں نیلی اور کالی ہو تی ہیں جن سے آگ لپٹ نکلتی ہے ، بال سر سے پیر تک بکھرے ہوتے ہیں ۔ پہلا سوال{ من ربک} تیرا رب کون ہے ۔ دوسرا سوال {مادینک } تیرا دین کیا ہے تیسرا سوال { ما کنت تقول فی شان ھذا الرجل} تو اس مردکی شان اقدس میں کیا کہتا تھا ایک عاشق رسول اس طرح جوب دیگا ۔{ربی اللّٰہ} میرا رب اللہ ہے جو قدوس ہے جو ہر عیب سے پاک ہے ۔ {دینی الاسلام} میرادین اسلام ہے جو ہر مذہب سے اعلیٰ ہے جو ہر مذہب سے پاک ہے ۔ تیسرے سوال کا جواب اس طرح دے گا ہم تو ان کے غلام ہیں میرے والدین ان پر قربان ، اے منکر نکیر کیا پوچھتے ہو ایک مدت سے تمنا تھی کاش موت آجائے کیونکہ سنتے ہیں سرکار مدینہ قبر میں تشریف لائیں گے۔ زندگی بھر یہ گنگناتے رہے ۔
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا
اے فرشتویہ ہمارے دل سرور ہیں ابھی کچھ نہ پوچھو جی بھر کے نظارہ کرنے دو ۔
برادران اسلام جب دیوبندی سے سوال کیا جائے گا تیرا رب کون ہے تو شاہد یہ ہی جواب دیں گے جواب دے گا ہمارا رب خدا ہے جو جھوٹ بول سکتا ہے تاکہ خدا کی قدرت انسان سے کم نہ ہوجائے پھر پوچھا جائے گا کہ تیرا دین کیا ہے تو جواب دے گا ہمارا دین اسلام ہے جس میں کوا کھانا جائز ہے ۔ پھر فرشتے پوچھیں گے اس آدمی کی شان میں تو کیا کہتا تھا دیوبندی جواب دے گا ہم تو یہی کہتے تھے کہ یہ ہماری طرح بشر ہیں یہ مر کر مٹی میں مل گئے ان کو علم غیب نہ تھا یہ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوسکتے ۔ سنی بھا ئیو ! یہ جوابات سن کر فرشتے کیا سلوک کریں گے یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں ۔ آپ کو خود اندازہ ہوگیا ہوگا وہ بچارہ دیوبندی بھی کیا کرتا پوری زندگی جو بولتے رہے وہی زبان سے نکل رہا تھا اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے { من احب شیئا اکثر من ذکرہ } جو کسی سے زیادہ محبت رکھتا ہے اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے اور سنی مسلمان فخر سے یہ کہیں گے۔
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پہ نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتادو آکر میرے پیمبر سخت مشکل جواب میںہے
Post Views: 32