دیوبندی احسان فراموش ہیں
اور تم پر میرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے {لقد من اللّٰہ علی المومنین اذبعث فیھم رسولاً } مومنوں پر اللہ کا احسان ہے اس نے ایک رسول مبعوث کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا یا اللہ کیا محمد کی محبت تیری توحید کے ساتھ ضروری ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا { لولا محمد و امتہ ما خلقت الجنۃولا النار و لا الشمس ولا القمر ولاالیل ولا النھار ولاملکامقربا ولا نبیا مرسلاولا ایاک } اگر محمد اور اس کی امت نہ ہوتی تو میں جنت دوزخ، سورج چاند، رات دن ، فرشتے انبیاء کسی کو نہ پیدا کرتا ، اے موسیٰ تجھے بھی نہ پیدا کرتا۔
حدیث قدسی ہے ۔اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے اے محبوب اگر تم نہ ہوتے تو میں اپنی ربوبیت کو بھی ظاہر نہ کرتا ، سبحان اللہ کتنا بڑا احسان ہے رسول اللہ کا جن کے وسیلے سے ہم کو اپنے رب کی ربوبیت کا پتہ چلا ۔ اگر حضور تشریف نہ لاتے تو نہ معلوم ہماری پیشانی کس کس کے آگے جھکتی ، نہ معلوم ہم شجر کو معبود بناتے یا صنم کو اسی لئے ہم کبھی بھی حضور علیہ السلام کے احسان کو فراموش نہیں کرسکتے اگر ان کے احسان کے بدلے ساری زندگی شکریہ ادا کرتے رہیں جب بھی ان کے احسان کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے اس دنیا میں اگر کوئی انسان کسی انسان کا احسان فراموش کردیتا ہے تو لوگ اسے احسان فراموش کہتے ہیں اس دور میں وہا بی اور دیوبندی سے زیادہ احسان فراموش کون ہوگا جن کے وسیلے سے رب کا پتہ چلا ، جن کے وسیلے سے قرآن مجید ملا جن کے وسیلے سے پنج وقتہ نماز ملی جن کے ذریعے رمضان کے روزے ملے ، جن کے وسیلے سے سب سے بڑی دولت ایمان ملا ۔ آج اسی کے احسان کو فراموش کرکے شکریہ ادا کرنے کے بجائے عداوت کرتے ہیں ۔ افسوس صد افسوس اپنے آپ کو نمازی کہلاتے ہیں ،اپنی نماز پر فخر کرتے ہیں اور نماز عطا کرنے والے کو فراموش کرجاتے ہیں ۔ ان کے دیئے ہوئے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور صاحب قرآن کوبھول جاتے ہیں ، دیوبندیو ، وہابیو حضور علیہ السلام نے جو تم کو کلمہ پڑھایا اس کا بھی احسان گیا ۔ لعنت ہے تم پر اور تمہاری احسان فراموشی پر دنیا میں تم سے زیادہ احسان فراموش اور کون ہوگا ۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
وماعلیناالاالبلغ
Post Views: 44